حدیث نمبر: 3042
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا الْكَلْبِيُّ، عَنْ حُمَيْضَةَ بْنِ الشَّمَرْذَلِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْلَمْتُ وَأَسْلَمْنَ مَعِي، هَاجَرْتُ وَهَاجَرْنَ مَعِي، قَالَ: «فَاخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا» فَجَعَلْتُ أَقُولُ لِلَّتِي أُرِيدُ إِمْسَاكَهَا: أَقْبِلِي، وَلِلَّتِي أُرِيدُ فِرَاقَهَا: أَدْبِرِي، فَتَقُولُ: أَنْشُدُكَ الرَّحِمَ، أَنْشُدُكَ الْوَلَدَ قَالَ الْكَلْبِيُّ: وَثنا أَبُو صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ.
مظاہر امیر خان

الحارث بن قیس نے کہا: ”میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں مسلمان ہوا اور میرے ساتھ سب نے ہجرت بھی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے چار کو اختیار کرو۔“ میں جسے رکھنا چاہتا اسے کہتا: ”آؤ۔“ اور جسے چھوڑنا چاہتا اسے کہتا: ”پیچھے ہٹو۔“ وہ کہتیں: ”میں تمہیں رحم اور اولاد کا واسطہ دیتی ہوں۔“

وضاحت:
وضاحت: سند میں کلبی کی وجہ سے روایت شدید ضعیف بلکہ مردود ہے۔ حمیدة بھی مجہول ہے۔ روایت میں واقعاتی تفصیل ہے جو دیگر صحیح روایات سے موافق نہیں، جیسے "اقبلی" و "ادبری" کہنا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3042
درجۂ حدیث محدثین: منكر السند ضعيف جدًا
تخریج حدیث «منكر السند ضعيف جدًا، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1865، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 5257»