سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ بَدَأَ بِالْيَمِينِ فِي الطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ قَبْلَ الِاسْتِثْنَاءِ باب: اُس شخص کا بیان جس نے طلاق یا عتق (غلام کو آزاد کرنے) میں پہلے قسم کھائی، پھر بعد میں استثناء کیا۔
حدیث نمبر: 2993
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أنا أَشْعَثُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا مِجْلَزٍ عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: إِنْ دَخَلْتُ دَارَ فُلَانٍ فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ ثَلَاثًا، قُلْتُ: إِلَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، إِلَّا إِنْ يَشَأِ اللَّهُ، قَالَ أَبُو مِجْلَزٍ: «أَلَيْسَ قَدِ اسْتُثْنَى لِيَدْخُلَهَا إِنْ شَاءَ»مظاہر امیر خان
حضرت ابو مجلز رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی کہے کہ اگر میں فلاں کے گھر میں داخل ہو جاؤں تو میری بیوی تین طلاق ہے، پھر ساتھ ان شاء اللہ کہہ دے تو داخل ہو سکتا ہے۔“