سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي اللِّعَانِ باب: لعان (بیوی پر بدکاری کا الزام اور اس کی قسمیں) کے مسائل
حدیث نمبر: 2735
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: لَمَّا تَلَاعَنَا لَزِمَهَا، فَقَالَ لَهَا: مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَهُوَ أَبْعَدُ لَكَ اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، وَحِسَابَكُمَا عَلَى اللَّهِ، وَلَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا»مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب لعان مکمل ہوا تو شوہر نے بیوی سے اپنا مال مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر سچے ہو تو وہ مال اس وجہ سے تھا کہ تم نے اس سے فائدہ اٹھایا، اور اگر جھوٹے ہو تو تم اس سے بہت دور ہو، اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔“