سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي اللِّعَانِ باب: لعان (بیوی پر بدکاری کا الزام اور اس کی قسمیں) کے مسائل
حدیث نمبر: 2734
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ ابْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: «حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، وَأَحَدُكُمَا كَاذِبٌ، لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا»، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي، فَقَالَ: «لَا مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ»مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے جوڑے سے فرمایا: ”تم دونوں کا معاملہ اللہ پر ہے، تم میں سے ایک جھوٹا ہے، اس پر تیرا کوئی حق نہیں۔“ اس نے کہا: میرا مال؟ فرمایا: ”اگر سچا ہے تو یہ مال اس وجہ سے ہے کہ تم نے اس سے فائدہ اٹھایا، اور اگر جھوٹا ہے تو یہ تمہارے لیے زیادہ دور ہے۔“