سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي نَفَقَةِ الْحَامِلِ باب: حاملہ عورت کے نان و نفقہ کا بیان
حدیث نمبر: 2553
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا سَيَّارٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " أَرْسَلَ إِلَيَّ يَزِيدُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ يَسْأَلُنِي عَنِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَقُلْتُ لَهُ: يُنْفَقُ عَلَيْهَا مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ حَتَّى تَضَعَ، فَإِذَا وَضَعَتْ قُسِمَ الْمِيرَاثُ. فَقَالَ لِي يَزِيدُ: نَقْسِمُ الْمِيرَاثَ، فَنَعْزِلُ لِمَا فِي بَطْنِهَا نَصِيبَ الْغُلَامِ، فَإِنْ جَاءَتْ بِغُلَامٍ فَلَهُ نَصِيبُهُ، وَإِنْ جَاءَتْ بِجَارِيَةٍ أُعْطِيَتْ نَصِيبَهَا وَقُسِمَ مَا سِوَى ذَلِكَ بَيْنَ الْوَرَثَةِ؟ فَقُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَتْ بِهِمَا تَوْأَمَاتٍ؟ فَإِنِّي أَنَا وَعَمْرَةَ - قُلْتُ: وَهِيَ أُخْتُ الشَّعْبِيِّ - وُلِدْنَا فِي بَطْنٍ "مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یزید بن ابی مسلم نے مجھ سے بیوہ حاملہ کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا: اس پر سارا مال خرچ ہوگا جب تک بچہ پیدا نہ ہو۔ پھر یزید نے کہا: ہم میراث تقسیم کریں گے اور اس کے پیٹ میں بچے کے لیے لڑکے کا حصہ مخصوص کر دیں گے، اگر لڑکا ہوا تو اس کا حصہ دے دیں گے، اگر لڑکی ہوئی تو اس کا حصہ دیں گے، باقی میراث تقسیم کر دیں گے۔ میں نے کہا: اگر جڑواں پیدا ہو جائیں؟ کیونکہ میں اور میری بہن عمرة رحمہما اللہ ایک ہی پیٹ میں پیدا ہوئے تھے۔