سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي خِيَارِ الْأَمَةِ باب: لونڈی کو اختیار دینے کے بارے میں وارد احادیث
حدیث نمبر: 2437
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ حُرًّا، قَالَتْ: فَلَمَّا أُعْتِقَتْ خَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَأَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اشْتَرِيهَا ثُمَّ أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: بریرہ کے شوہر آزاد تھے، اور جب بریرہ آزاد ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا تو انہوں نے خود کو پسند کیا، اور بریرہ کے مالک چاہتے تھے کہ بریرہ کو بیچ کر ولاء کی شرط رکھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خریدو اور آزاد کر دو، ولاء اسی کا حق ہے جو آزاد کرے۔»