سنن سعید بن منصور
كتاب النكاح— نکاح کی کتاب
بَابُ مَنْ يَتَزَوَّجُ امْرَأَةً مَجْذُومَةً أَوْ مَجْنُونَةً باب: جزامی یا مجنونی عورت سے نکاح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2009
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُمَرَ، وَسَهْلُ بْنُ زَنْجَلَةَ الرَّازِيُّ، قَالَ: نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ: أَيُّ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ؟ فَقَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ ابْنَةَ الْجَوْنِ الْكِلَابِيَّةَ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ يَدْنُو مِنْهَا، فَقَالَتْ: عَائِذًا بِاللَّهِ. فَقَالَ: «عُذْتِ بِعَظِيمٍ، ضُمِّي ثِيَابَكِ وَالْحَقِي بِأَهْلِكِ»مظاہر امیر خان
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب بنی کلاب کی بیٹی (امیمہ بنت نعمان) آئیں تو آپ ان کے قریب ہوئے، انہوں نے کہا: ”میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں”۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے عظیم کی پناہ لی ہے، کپڑے پہن لو اور اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ“۔