حدیث نمبر: 1575
سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الرَّجُلِ يُوصِي بِالْعَتَاقِ وَغَيْرِهِ، قَالَ: «يُبْدَأُ بِالْعَتَاقِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ، فَإِذَا اسْتَكْمَلَ الْعَتَاقُ الثُّلُثَ لَمْ يَكُنْ لِأَصْحَابِ الْوَصِيَّةِ شَيْءٌ وَإِنْ زَادَ الْعَتَاقُ عَلَى الثُّلُثِ اسْتَسْعَى فِيمَا بَقِيَ وَعَتَقَ، فَإِنْ كَانَ الْعَتَاقُ أَقَلَّ مِنَ الثُّلُثِ بُدِئَ بِالْعَتَاقِ، وَمَا بَقِيَ مِنَ الثُّلُثِ كَانَ بَيْنَ أَصْحَابِ الْوَصِيَّةِ بِحِصَصِهِمْ»
مظاہر امیر خان

ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص غلاموں کی آزادی اور دوسری وصیت کرے تو پہلے غلام آزاد کیے جائیں گے، اگر غلاموں کی آزادی تہائی مال میں پوری ہو جائے تو دوسرے اصحاب وصیت کو کچھ نہیں ملے گا، اور اگر غلاموں کی آزادی تہائی سے زیادہ ہو جائے تو غلام سے مزدوری لی جائے گی اور غلام آزاد کر دیا جائے گا، اور اگر غلاموں کی آزادی تہائی سے کم ہو تو باقی تہائی مال اصحاب وصیت میں ان کے حصے کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب ولاية العصبة / حدیث: 1575
تخریج حدیث «أخرجه الدارمي فى «مسنده» برقم: 3275، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 397، 398، 402، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 12741، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 16741، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31523، 31528، 31533»