حدیث نمبر: 1506
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ عَلَى فَرَسٍ أَوْ بِرْذَوْنٍ أَبْلَقَ فَقَالَ: أَتَأْمُرُنِي أَنْ أَشْتَرِيَ هَذَا؟ قَالَ: وَمَا شَأْنُهُ؟ قَالَ رَجُلٌ أَوْصَى إِلَيَّ وَهُوَ مِنْ تَرِكَتِهِ، وَقَدْ أَخْرَجْتُهُ إِلَى السُّوقِ فَقَامَ عَلَيَّ الثَّمَنُ فَقَالَ: «لَا تَشْتَرِ مِنْ تَرِكَتِهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْتَسْلِفْ مِنْهُ»
مظاہر امیر خان

ابو اسحاق رحمہ اللہ نے روایت کی، انہوں نے کہا: ”میں نے یہ حدیث صلہ بن زفر رحمہ اللہ سے ستر سال پہلے سنی تھی، انہوں نے کہا: ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک گھوڑے یا چتکبرے گھوڑے پر آیا اور کہا: کیا آپ مجھے حکم دیتے ہیں کہ میں یہ خرید لوں؟ انہوں نے کہا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا: ایک شخص نے مجھے وصیت کی ہے اور یہ اس کی ترکہ میں سے ہے، اور میں اسے بازار میں لے گیا تو اس کی قیمت مجھ پر قائم ہو گئی۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو کسی میت کی چیز کو وصی ہونے کی وجہ سے بازار میں لے جائے تو اسے خود نہ خریدے اور نہ ہی اس سے قرض لے۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب ولاية العصبة / حدیث: 1506
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «إسنادہ صحیح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 329، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 11100، 12801، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 16479، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31663، والطبراني فى«الكبير» برقم: 9723، 9724»