سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ الرَّجُلِ يَصَّدَّقُ بِصَدَقَةٍ فَتَرْجِعُ إِلَيْهِ بِالْمِيرَاثِ باب: صدقہ دیے گئے مال کا وراثت میں واپس آ جانا
حدیث نمبر: 1428
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، وَحُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ حَائِطِي صَدَقَةٌ وَإِنَّهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَجَاءَ أَبَوَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا: إِنَّهُ لَيْسَ لَنَا عَيْشٌ غَيْرَ هَذَا، فَرَدَّهُ عَلَيْهِمَا، فَمَاتَ أَبَوَاهُ فَوَرِثَهُ " قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: وَابْنَا أَبِي بَكْرٍ، قَالَ سَعِيدٌ: ابْنَيْ أَبِي بَكْرٍ: عَبْدُ اللَّهِ وَمُحَمَّدٌمظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: ”میرا باغ صدقہ ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے۔“ پھر ان کے والدین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”ہمارے پاس اس کے سوا کوئی گزر بسر کا ذریعہ نہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ باغ ان کو واپس کر دیا، جب وہ دونوں فوت ہو گئے تو عبداللہ نے اس باغ کو وارثت میں پا لیا۔