سنن سعید بن منصور
كتاب ولاية العصبة— عصبہ کی ولایت کی کتاب
بَابُ الْجَدَّاتِ باب: دادیوں کے (وراثت میں) احکام کا بیان
حدیث نمبر: 1279
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ مَاتَ وَتَرَكَ جَدَّتَيْهِ، أُمَّ أُمِّهِ وَأُمَّ أَبِيهِ وَأَبُوهُ حَيٌّ، فَوَلِيتُ تَرِكَتَهُ، فَأَعْطَيْتُ السُّدُسَ أُمَّ أُمِّهِ، وَتَرَكْتُ أُمَّ أَبِيهِ، فَقِيلَ لِي: كَانَ يَنْبَغِي لَكَ أَنْ تُشْرِكَ بَيْنَهُمَا. فَأَتَيْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «أَشْرِكْ بَيْنَهُمَا فِي السُّدُسِ» . فَفَعَلْتُمظاہر امیر خان
ایک آدمی کی وفات ہوئی اور اس نے اپنی نانی اور دادی کو چھوڑا، باپ زندہ تھا، میں نے وراثت سنبھالی، نانی کو سدس دیا اور دادی کو چھوڑ دیا، کہا گیا: ”دونوں کو برابر شریک کرنا چاہیے تھا۔“ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو فرمایا: ”دونوں کو سدس میں شریک کر دو۔“ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔