حدیث نمبر: 1257
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَ ابْنِي - أَوِ ابْنَ ابْنَتِي - مَاتَ، وَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّ لِي فِي كِتَابِ اللَّهِ حَقًّا. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا أَجِدُ لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ حَقًّا، وَمَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي لَكِ بِشَيْءٍ وَسَأَسْأَلُ النَّاسَ. فَسَأَلَ النَّاسَ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: أَعْطَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّدُسَ. فَقَالَ: مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ؟ فَقَالَ: مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ. فَشَهِدَا؛ فَأَعْطَاهَا السُّدُسَ، فَجَاءَتِ الَّتِي تُخَالِفُهَا أُمُّ الْأُمِّ أَوْ أُمُّ الْأَبِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَأَعْطَاهَا السُّدُسَ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمَا انْفَرَدَتْ فَهُوَ لَهَا، وَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فَهُوَ بَيْنَكُمَا
مظاہر امیر خان

ایک دادی سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئی کہ میرا بیٹا یا بیٹی کا بیٹا فوت ہوا ہے اور میں نے سنا ہے کہ کتاب اللہ میں میرا حق ہے۔ سیدنا ابو بکر نے فرمایا: ”میں کتاب اللہ میں تمہارے لیے کوئی حق نہیں پاتا، نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز سنی ہے، میں لوگوں سے پوچھتا ہوں۔“ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دادی کو چھٹا دیا تھا۔ جب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے بھی گواہی دی تو انہیں چھٹا حصہ دے دیا۔ پھر جب دوسری دادی آئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسے چھٹا حصہ دیا اور فرمایا: ”اگر ایک ہو تو پورا، اگر دو ہوں تو تقسیم ہوگا۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب ولاية العصبة / حدیث: 1257
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح مرسل
تخریج حدیث «إسناده صحيح مرسل، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 1871، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1032، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6031، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8070، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6305، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2894، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2100، 2101، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2981، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2724، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 80، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18261، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31922»
قال ابن حجر: إسناده صحيح لثقة رجاله إلا أن صورته مرسل، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 178)