کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے کہا: ”مجھ پر اللہ کے لیے ایک متعین دن کا روزہ رکھنا لازم ہے“، پھر وہ دن عید الفطر یا عید الاضحی کا دن نکل آیا۔
حدیث نمبر: 20143
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفَ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ أَبِي حُرَّةَ الْأَسْلَمِيُّ، سَمِعَ رَجُلًا يَسْأَلُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ لَا يَأْتِيَ عَلَيْهِ يَوْمٌ سَمَّاهُ، إِلَّا وَهُوَ صَائِمٌ فِيهِ، فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ أَضْحَى، أَوْ يَوْمَ فِطْرٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١] لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ الْأَضْحَى، وَلَا يَوْمَ الْفِطْرِ، وَلَا يَأْمُرُ بِصِيَامِهِمِا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيِّ. وَفِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ مَعَ مَا رَوَيْنَاهُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ " دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ لَا يَلْزَمُ قَضَاؤُهُ.
حافظ ثناء اللہ
حکیم بن ابی حرۃ اسلمی نے ایک آدمی سے سنا، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کر رہے تھے جس نے ایک دن کا نام لے کر کہا کہ وہ اس میں روزہ رکھے گا، اس دن عید الاضحیٰ یا عید الفطر آ گئی تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ”رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں تمہارے لیے نمونہ ہے“ ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”نبی ﷺ عید الفطر یا عید الاضحیٰ کا روزہ نہ رکھتے تھے اور نہ ہی ان دنوں کا روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے“۔
(ب) عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”اللہ کی نافرمانی میں نذر پوری نہیں کی جاتی اور نہ ہی جس چیز کا ابن آدم مالک نہیں“۔
(ب) عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”اللہ کی نافرمانی میں نذر پوری نہیں کی جاتی اور نہ ہی جس چیز کا ابن آدم مالک نہیں“۔
حدیث نمبر: 20144
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ كُلَّ ثُلَاثَاءَ أَوْ أَرْبِعَاءَ مَا عِشْتُ، فَإِنْ وَافَقْتُ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ نَحْرٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " إِنَّهُ قَدْ أَمَرَ اللهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنُهِينَا أَنْ نَصُومَ هَذَا الْيَوْمَ " قَالَ: فَخُيِّلَ إِلَى الرَّجُلِ أَنَّهُ لَمْ يَفْهَمْ، فَأَعَادَ عَلَيْهِ الْكَلَامَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " قَدْ أَمَرَ اللهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنُهِينَا عَنْ صِيَامِ هَذَا الْيَوْمِ "، قَالَ يُونُسُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلْحَسَنِ فَقَالَ: " يَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ دُونَ قَوْلِ الْحَسَنِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
زیاد بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا۔ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: ”جب تک میں زندہ رہوں گا منگل یا بدھ کا روزہ رکھوں گا، اگرچہ اس دن عید الاضحیٰ کیوں نہ ہو۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن اس دن روزہ رکھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ آدمی کے خیال کے مطابق کہ وہ ان کی بات سمجھ نہیں سکے، دوسری مرتبہ کلام کو دہرایا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ”اللہ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور اس دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔“
(ب) یونس رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اس کا تذکرہ کیا، حضرت حسن رحمہ اللہ سے پوچھا گیا تو کہنے لگے: ”وہ اس کی جگہ کسی اور دن روزہ رکھ لے۔“
(ب) یونس رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اس کا تذکرہ کیا، حضرت حسن رحمہ اللہ سے پوچھا گیا تو کہنے لگے: ”وہ اس کی جگہ کسی اور دن روزہ رکھ لے۔“