کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان کا کوئی گرجا گھر یا عبادت گاہ منہدم نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 18715
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الْيَامِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، أنبأ أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: صَالَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ نَجْرَانَ عَلَى أَلْفَيْ حُلَّةٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ كَمَا مَضَى قَالَ فِيهِ: عَلَى أَنْ لَا تُهْدَمَ لَهُمْ بِيعَةٌ، وَلَا يُخْرَجَ لَهُمْ قِسٌّ، وَلَا يُفْتَنُونَ عَنْ دِينِهِمْ مَا لَمْ يُحْدِثُوا حَدَثًا أَوْ يَأْكُلُوا الرِّبَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل نجران سے دو ہزار سوٹوں پر صلح کی۔ مذکورہ حدیث میں ہے کہ ”ان کے معبد خانے نہ گرائے جائیں گے، پادری کو نہ نکالا جائے گا اور ان کے دین سے نہ ہٹایا جائے گا، جب تک کوئی نیا کام نہ کریں یا سود نہ کھائیں۔“
حدیث نمبر: 18716
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبِي، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَيُّمَا مِصْرٍ أَعَدَّهُ الْعَرَبُ فَلَيْسَ لِلْعَجَمِ أَنْ يَبْنُوا فِيهِ بِيعَةً، أَوْ قَالَ: كَنِيسَةً، وَلَا يَضْرِبُوا فِيهِ نَاقُوسًا، وَلَا يُدْخِلُوا فِيهِ خَمْرًا وَلَا خِنْزِيرًا، وَأَيُّمَا مِصْرٍ اتَّخَذَهُ الْعَجَمُ فَعَلَى الْعَرَبِ أَنْ يَفُوا لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ فِيهِ وَلَا يُكَلِّفُوهُمْ مَا لَا طَاقَةَ لَهُمْ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جو شہر عرب والوں نے بسایا تو عجمی لوگ اس میں معبد خانے نہیں بنا سکتے اور ان کو ناقوس بجانے کی بھی اجازت نہیں ہے اور اس میں شراب اور خنزیر کا گوشت بھی نہیں لا سکتے، اور جس شہر کو عجم آباد کریں تو عرب والے ان کا عہد پورا کریں اور ان کی طاقت سے بڑھ کر ان کو تکلیف نہ دیں۔