کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جسے کوئی انجان تیر آ کر لگے اور اسے شہید کر دے۔
حدیث نمبر: 18540
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ أُمَّ الرُّبَيِّعِ بِنْتَ الْبَرَاءِ وَهِيَ أُمُّ حَارِثَةَ بِنْتُ سُرَاقَةَ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَلَا تُخْبِرُنِي عَنْ حَارِثَةَ؟ وَكَانَ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ، أَصَابَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ، فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ صَبَرْتُ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ اجْتَهَدْتُ عَلَيْهِ الْبُكَاءَ. قَالَ: " يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنَّ ابْنَكِ أَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الْأَعْلَى ". قَالَ قَتَادَةُ: الْفِرْدَوْسُ: رَبْوَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَأَوْسَطُهَا وَأَفْضَلُهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام ربیع بنت براء رضی اللہ عنہا (یہ ام حارثہ بن سرقہ ہیں) نبی ﷺ کے پاس آئیں اور کہا: ”آپ مجھے حارثہ کے بارے میں خبر دیں جو بدر کے دن نامعلوم تیر کی وجہ سے فوت ہوئے، اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کروں اور اگر کسی اور جگہ ہے تو جی بھر کر رو لوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام حارثہ! وہ جنت کے باغوں میں ہے اور تیرا بیٹا تو جنت الفردوس میں ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”فردوس جنت میں اونچی جگہ ہے، جنت کے درمیان اور افضل جگہ ہے۔“