کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جنگ کی شدت کے وقت سواری سے اتر کر پیدل قتال کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18477
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاءِ رَضِيَ ⦗٢٦٢⦘ اللهُ عَنْهُ: يَا أَبَا عُمَارَةَ أَكُنْتُمْ فَرَرْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ؟ فَقَالَ: لَا وَاللهِ مَا وَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنَّهُ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِهِ وَأَخِفَّاؤُهُمْ حُسَّرًا لَيْسَ عَلَيْهِمْ سِلَاحٌ أَوْ كَثِيرُ سِلَاحٍ، فَلَقُوا قَوْمًا رُمَاةً لَا يَكَادُ يَسْقُطُ لَهُمْ سَهْمٌ، جَمْعَ هَوَازِنَ وَبَنِي نَصْرٍ فَرَشَقُوهُمْ رَشْقًا لَا يَكَادُونَ يُخْطِئُونَ، فَأَقْبَلُوا هُنَاكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَقُودُ بِهِ، فَنَزَلَ وَاسْتَنْصَرَ وَقَالَ: " أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ " ثُمَّ صَفَّهُمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنْ زُهَيْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو عمارہ! کیا تم حنین کے دن بھاگ گئے تھے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نہیں بھاگے، لیکن کچھ نوجوان جن کے پاس اسلحہ کم تھا، ان کا سامنا تیر انداز لوگوں سے ہوا، وہ ہوازن اور بنو نصر کے جمع شدہ قبائل تھے جن کا نشانہ خطا نہیں ہوتا تھا، انہوں نے ان پر تیر برسائے، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے جبکہ رسول اللہ ﷺ اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور سیدنا ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ اس خچر کو چلا رہے تھے، آپ ﷺ نیچے اتر پڑے اور فرمایا: «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ» ”میں نبی ہوں، یہ جھوٹ نہیں ہے، میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18477
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»