کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: دشمن کے علاقے کی طرف ہتھیار لے کر جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18242
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ ذِي الْجَوْشَنِ، رَجُلٌ مِنَ الضِّبَابِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ فَرَغَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ بِابْنِ فَرَسٍ لِي يُقَالُ لَهَا الْقَرْحَاءُ، فَقُلْتُ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي جِئْتُكَ بِابْنِ الْقَرْحَاءِ لِتَتَّخِذَهُ. قَالَ: " لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أُقِيضَكَ بِهِ الْمُخْتَارَةَ مِنْ دُرُوعِ بَدْرٍ فَعَلْتُ ". قُلْتُ: مَا كُنْتُ أُقِيضُهُ الْيَوْمَ بِغُرَّةٍ. قَالَ: " فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ ". قَالَ الشَّيْخُ: قَوْلُهُ أُقِيضُكَ مِنَ الْمُقَايَضَةِ، وَهِيَ الْمُبَادَلَةُ.
حافظ ثناء اللہ
ذی الجوشن رضی اللہ عنہ ضباب قبیلے کے ایک آدمی ہیں، انہوں نے کہا: میں نبی ﷺ کے پاس اپنے گھوڑے کا بچہ لایا جس وقت آپ ﷺ بدر والوں سے فارغ ہو چکے تھے۔ اس گھوڑے کو «القَرْحَاء» ”قرحاء“ کہا جاتا تھا۔ میں نے کہا: ”اے محمد! میں آپ ﷺ کے پاس قرحاء کے بچے کو لایا ہوں تاکہ آپ اس کو لے لیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر آپ چاہیں تو میں اس کا بدر کی درعوں (زرہوں) سے تبادلہ کر لیتا ہوں۔“ میں نے کہا: میں آج اس کا کسی غلام کے بدلے تبادلہ نہ کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18242
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»