کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دار الحرب میں مجاہد کے پاس جو کھانا اور چارہ بچ جائے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 18003
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الْعَزِيزِ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْأُرْدُنِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، قَالَ: رَابَطْنَا مَدِينَةَ قِنَّسْرِينَ مَعَ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا فَتَحَهَا أَصَابَ فِيهَا غَنَمًا وَبَقَرًا، فَقَسَمَ فِينَا طَائِفَةً مِنْهَا وَجَعَلَ بَقِيَّتَهَا فِي الْمَغْنَمِ، فَلَقِيتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ مُعَاذٌ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، فَأَصَبْنَا فِيهَا غَنَمًا فَقَسَمَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَائِفَةً وَجَعَلَ بَقِيَّتَهَا فِي الْمَغْنَمِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن غنم کہتے ہیں: ہم نے قنسرین شہر کا شرحبیل بن سمط کے ساتھ مل کر محاصرہ کیا۔ جب اسے فتح کر لیا تو ہمیں غنیمت کا مال ملا اور جانور (بکریاں اور گائے) بھی ملے تو انہوں نے اس کا کچھ حصہ ہمیں تقسیم کر کے دے دیا۔ باقی ماندہ کو مال غنیمت میں داخل کر دیا۔ میں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی جنگ میں تھے، آپ ﷺ نے مال غنیمت کا ایک حصہ ہمارے درمیان تقسیم کیا اور باقی کو مال غنیمت میں داخل کر دیا۔
حدیث نمبر: 18004
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ: " كُلُوا وَاعْلِفُوا وَلَا تَحْمِلُوا "..
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن فرمایا: ”کھاؤ اور جانوروں کے لیے حاصل کرو اور اٹھا کر نہ لے جاؤ۔“
حدیث نمبر: 18005
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن عمر رحمہ اللہ نے مذکورہ روایت کو ہی نقل کیا ہے مگر مرسل ہے۔
حدیث نمبر: 18006
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ حَرْشَفٍ الْأَزْدِيَّ حَدَّثَهُ، عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُنَّا نَأْكُلُ الْجُزُرَ فِي الْغَزْو وَلَا نَقْسِمُهُ، حَتَّى إِنْ كُنَّا لَنَرْجِعُ إِلَى رِحَالِنَا وَأَخْرِجَتُنَا مِنْهُ مُمْلَأَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن کے مولیٰ قاسم اصحابِ نبی ﷺ رضی اللہ عنہم سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم غزوات میں گوشت کھاتے تھے اور تقسیم نہیں کرتے تھے، جب ہم گھروں کو آتے تو ہماری تھیلیاں اس سے بھری ہوتی تھیں۔
حدیث نمبر: 18007
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: " يُرْوَى مِنْ حَدِيثِ بَعْضِ النَّاسِ مِثْلُ مَا قُلْتُ مِنْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لَهُمْ أَنْ يَأْكُلُوا فِي بِلَادِ الْعَدُوِّ وَلَا يَخْرُجُوا بِشَيْءٍ مِنَ الطَّعَامِ. فَإِنْ كَانَ مِثْلُ هَذَا ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا حُجَّةَ لِأَحَدٍ مَعَهُ، وَإِنْ كَانَ لَا يَثْبُتُ لِأَنَّ فِي رِجَالِهِ مَنْ يُجْهَلُ، فَكَذَلِكَ فِي رِجَالِ مَنْ رُوِيَ عَنْهُ إِحْلَالُهُ مَنْ يُجْهَلُ. قَالَ الشَّيْخُ: " وَكَأَنَّهُ أَرَادَ بِالْأَوَّلِ حَدِيثَ الْوَاقِدِيِّ، وَأَرَادَ بِالثَّانِي مَا ذَكَرْنَا بَعْدَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض لوگوں سے روایت بیان کی گئی ہے جس طرح میں کہتا ہوں کہ نبی ﷺ نے ”اجازت دی ہے کہ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت کھا لیں، لیکن اس میں سے کچھ نہ نکالو۔“ اگر یہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہو جائے تو اس کی موجودگی میں دوسری کوئی دلیل نہیں ہے اور اگر یہ ثابت نہ ہو کیونکہ اس میں ایک مجہول ہے اور اسی طرح جن راویوں نے اس کا اعلال بیان کیا ہے اس میں بھی مجہول ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: امام شافعی کی اول سے مراد حدیث واقدی ہے اور دوسری وہ جو ہم نے بعد میں ذکر کی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: امام شافعی کی اول سے مراد حدیث واقدی ہے اور دوسری وہ جو ہم نے بعد میں ذکر کی ہے۔
حدیث نمبر: 18008
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَزَّارُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ الْعَطَّارُ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ: يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنِّي امْرُؤٌ مَتْجَرِي بِالْأَيْلَةِ، وَإِنِّي أَمْلَأُ بَطْنِي مِنَ الطَّعَامِ، فَأَصْعَدُ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ فَآكُلُ مِنْ تَمْرِهِ وَبُسْرِهِ فَمَا تَرَى؟ قَالَ الْحَسَنُ: غَزَوْتُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا إِذَا صَعِدُوا إِلَى الثِّمَارِ أَكَلُوا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُفْسِدُوا أَوْ يَحْمِلُوا ".
حافظ ثناء اللہ
ابوحمزہ عطار رحمہ اللہ نے حسن رحمہ اللہ سے سوال کیا: اے ابوسعید! میں ایسا آدمی ہوں جس کی تجارت کا مقام (ابلہ) کی جگہ ہے، میں اپنا کھانے بھر لیتا ہوں، پھر دشمن کے علاقہ میں جاتا ہوں اور وہاں خشک اور تر کھجور کھاتا ہوں، اس کو آپ کیسا دیکھتے ہو؟ تو حسن رحمہ اللہ نے کہا: ہم عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوہ میں شریک تھے، نبی ﷺ کے صحابی رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے، جب وہ پھلوں کی طرف چڑھتے تو اس سے کھا لیتے تھے مگر خراب نہیں کرتے تھے اور نہ ساتھ اٹھاتے تھے۔