أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ كُلْثُومِ بْنِ الْأَقْمَرِ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ عَرَّبَ الْعِرَابَ رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ مُنْذِرٌ الْوَادِعِيُّ، كَانَ عَامِلًا لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى بَعْضِ الشَّامِ فَطَلَبَ الْعَدُوَّ، فَلَحِقَتِ الْخَيْلُ وَتَقَطَّعَتِ الْبَرَاذِينُ، فَأَسْهَمَ لِلْخَيْلِ وَتَرَكَ الْبَرَاذِينَ، وَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " نِعِمَّا رَأَيْتَ ". فَصَارَتْ سُنَّةً. رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ثُمَّ قَالَ: " وَالَّذِي نَذْهَبُ إِلَيْهِ مِنْ هَذَا تَسْوِيَةٌ بَيْنَ الْخَيْلِ وَالْعِرَابِ وَالْبَرَاذِينِ وَالْمَقَارِيفِ، وَلَوْ كُنَّا نُثْبِتُ مِثْلَ هَذَا مَا خَالَفْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
کلثوم بن اقمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے اندر گھوڑوں کی تعریب کرنے والا پہلا شخص منیذر وداعی تھا۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے شام کے بعض علاقوں کا امیر تھا۔ اس نے دشمن کو تلاش کیا، گھوڑے مل گئے اور غیر عربی گھوڑے بے بس ہو گئے۔ اس نے گھوڑوں کے لیے حصہ مقرر کیا اور غیر عربی گھوڑوں کو چھوڑ دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا تو حضرت نے جواب دیا کہ تیرا خیال اچھا ہے، تو یہ طریقہ بن گیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس بارے میں ہمارا خیال ہے کہ عربی اور غیر عربی گھوڑوں کو اور جس گھوڑے کی ماں عربی اور باپ غیر عربی یا اس کے الٹ ہو سب کو برابر رکھا جائے گا اور اگر ہم اس طرح برقرار رکھتے تو ہم مخالفت نہ کرتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا هَنْبَلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْحِمْصِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا ⦗٨٩⦘ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَرَّبَ الْعَرَبِيَّ وَهَجَّنَ الْهَجِينَ ". " كَذَا رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ سَاكِنُ حِمْصَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ خَالِدٍ مَوْصُولًا، وَرَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَجَمَاعَةٌ، عَنْ حَمَّادٍ مُنْقَطِعًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ”عربی کو عربی النسل قرار دیا اور دوغلے کو دوغلا قرار دیا۔“
اسی طرح احمد بن ابی احمد جرجانی (ساکن حمص) نے اسے حماد بن خالد سے موصولاً روایت کیا ہے، جبکہ امام شافعی، احمد بن حنبل اور ایک جماعت نے اسے حماد سے منقطعاً روایت کیا ہے۔
اسی طرح احمد بن ابی احمد جرجانی (ساکن حمص) نے اسے حماد بن خالد سے موصولاً روایت کیا ہے، جبکہ امام شافعی، احمد بن حنبل اور ایک جماعت نے اسے حماد سے منقطعاً روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ صَدَقَةَ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يُعْطِ الْكَوْدَنَ شَيْئًا، وَأَعْطَى دُونَ سَهْمِهِ الْعِرَابَ وَالْكَوْدَنُ الْبِرْذَوْنُ الْبَطِيءُ ". أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دوغلی نسل کے گھوڑوں کو کچھ نہیں دیا اور اس کے حصے کے بغیر خالص عربی النسل گھوڑوں کو دیا، دوغلی نسل کا گھوڑا «الْبِرْذَوْنُ الْبَطِيءُ» ہے۔
ابو بلال اشعری قابلِ حجت نہیں ہے۔
ابو بلال اشعری قابلِ حجت نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، وَحُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَيْرُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ ". قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، فَذَكَرَهُ، وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ عَلَّقَ الْمَغْنَمَ بِجِنْسِ الْخَيْلِ وَالْبَرَاذِينِ مِنْ جُمْلَةِ الْخَيْلِ، وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْبَرَاذِينِ هَلْ فِيهَا صَدَقَةٌ، فَقَالَ: " وَهَلْ فِي الْخَيْلِ صَدَقَةٌ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عروہ بن ابی جعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن تک گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر رکھ دی گئی ہے اور غنیمت بھی ان کی پیشانیوں میں رکھ دی گئی ہے“ تو اس میں دلالت ہے کہ غنیمتوں کو گھوڑوں کی جنس سے متعلق کیا گیا ہے تو دوغلی نسل کے گھوڑے بھی اصل میں گھوڑوں کی نسل سے ہیں۔