کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: دار الحرب میں موجود لشکر جس میں سے کوئی دستہ کسی علاقے کی طرف نکل کر غنیمت حاصل کرے اور لشکر بھی مالِ غنیمت پائے، کے متعلق بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَى جَيْشٍ إِلَى أَوْطَاسٍ، فَلَقِيَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ، فَقُتِلَ دُرَيْدٌ وَهَزَمَ اللهُ أَصْحَابَهُ. وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " أَبُو عَامِرٍ كَانَ فِي جَيْشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ بِحُنَيْنٍ، فَبَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَتْبَاعِهِمْ، وَهَذَا جَيْشٌ وَاحِدٌ كُلُّ فِرْقَةٍ مِنْهُ رِدْءٌ لِلْأُخْرَى، وَإِذَا كَانَ الْجَيْشُ هَكَذَا فَلَوْ أَصَابَ الْجَيْشُ شَيْئًا دُونَ السَّرِيَّةِ، أَوِ السَّرِيَّةُ شَيْئًا دُونَ الْجَيْشِ، كَانُوا فِيهِ شُرَكَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ حنین کی لڑائی سے فارغ ہوئے تو آپ نے ابو عامر رضی اللہ عنہ کو ایک دستے کا امیر بنا کر اوطاس کی جانب درید بن صمہ کی طرف روانہ کیا۔ انہوں نے اس کو پایا اور وہ قتل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھیوں کو شکست دی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو عامر رضی اللہ عنہ حنین کی جنگ میں نبی ﷺ کے لشکر میں تھے۔ نبی ﷺ نے ان کو ان (بھاگنے والوں) کے تعاقب میں بھیجا۔ یہ ایک لشکر تھا۔ ہر گروہ دوسرے کا مددگار تھا۔ جب لشکر کی یہ حیثیت ہو تو جس کو بھی غنیمت ملے تو لشکر اور علیحدہ گروہ دونوں اس میں شریک ہوں گے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17957
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَقَالَ فِيهِ: " وَالْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، يَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ، تَرُدُّ سَرَايَاهُمْ عَلَى قَعَدَتِهِمْ ". وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرٍو، فَقَالَ: " يَرُدُّ مُشِدُّهُمْ عَلَى مُضْعِفِهِمْ، وَمُتَسَرِّعُهُمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح کے سال خطبہ میں فرمایا تھا: ”مسلمان اپنے سوا دوسروں کے مقابلے میں ایک ہاتھ ہیں، ان کا ادنیٰ آدمی بھی ان کی طرف سے امان دے سکتا ہے، ان کا دور والا بھی ان پر (حصہ) لوٹاتا ہے اور ان کے فوجی دستے (غنیمت میں سے) ان کے پیچھے بیٹھنے والوں پر لوٹاتے ہیں۔“ یحییٰ بن سعید کی عمرو سے روایت میں ہے کہ ”ان کا طاقتور سواری والا کمزور سواری والے پر لوٹائے گا اور آگے بڑھ کر جانے والا بیٹھنے والے پر لوٹائے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17958
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»