کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: امام کے قلعے اور خندقیں بنانے اور دشمن کے حملے سے قبل اس کے دفاع کی خاطر کیے جانے والے تمام اقدامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17889
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ إِمْلَاءً وَأَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي قِرَاءَةً، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، أنبأ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَنَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَى أَكْتَافِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ، فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، ہم خندق کھود رہے تھے اور مٹی کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر نکال رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«اَللّٰهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ، فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرَةِ وَالْأَنْصَارِ» ”اے اللہ! نہیں ہے کوئی اچھی زندگی مگر آخرت کی بہتر زندگی، اے اللہ! بخش دے مہاجرین اور انصار کو۔“
«اَللّٰهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ، فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرَةِ وَالْأَنْصَارِ» ”اے اللہ! نہیں ہے کوئی اچھی زندگی مگر آخرت کی بہتر زندگی، اے اللہ! بخش دے مہاجرین اور انصار کو۔“
حدیث نمبر: 17890
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ حَوْلَ الْمَدِينَةِ وَيَنْقُلُونَ التُّرَابَ عَلَى مُتُونِهِمْ، وَيَقُولُونَ:.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مہاجرین و انصار مدینہ کے ارد گرد خندق کھود رہے تھے اور اپنی کمر پر مٹی اٹھا کر نکال رہے تھے اور وہ کہتے تھے: ہم نے محمد ﷺ سے اسلام پر بیعت کی جب تک ہم زندہ رہیں گے، اور رسول اللہ ﷺ جواب دیتے تھے:
«اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَةِ، فَبَارِكْ فِي الْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ» ”اے اللہ! کوئی بھلائی نہیں ہے مگر آخرت کی بھلائی، اے اللہ! انصار و مہاجرین میں برکت ڈال۔“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انہیں دو مٹھی بھر جو دیے جاتے اور ان کا سالن بنایا جاتا تھا جو بدبودار ہوتا تھا اور وہ حلق میں اٹک جاتا تھا اور اس کی بو اچھی نہ تھی، وہی لوگوں کے سامنے رکھ دیا جاتا تھا۔
«اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَةِ، فَبَارِكْ فِي الْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ» ”اے اللہ! کوئی بھلائی نہیں ہے مگر آخرت کی بھلائی، اے اللہ! انصار و مہاجرین میں برکت ڈال۔“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انہیں دو مٹھی بھر جو دیے جاتے اور ان کا سالن بنایا جاتا تھا جو بدبودار ہوتا تھا اور وہ حلق میں اٹک جاتا تھا اور اس کی بو اچھی نہ تھی، وہی لوگوں کے سامنے رکھ دیا جاتا تھا۔