کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: فتنہ اور اس جیسی دیگر صورتحال کے وقت اس (بادیہ نشینی) کی اجازت کے متعلق کیا احکامات وارد ہوئے ہیں۔
حدیث نمبر: 17792
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، وَدَاوُدُ بْنُ مِخْرَاقٍ الْفَارَيَابِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ،، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ ارْتَدَدْتَ عَلَى عَقِبَيْكَ تَعَرَّبْتَ، قَالَ: أَحَدُهُمَا بَعْدَ الْهِجْرَةِ. قَالَ: لَا وَلَكِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِي فِي الْبَدْوِ. ⦗٣٤⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ حجاج بن یوسف کے پاس گئے تو انہوں نے کہا: اے ابن اکوع! تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر گئے ہو دیہاتی بن کر ہجرت کے بعد۔ انہوں نے کہا: نہیں، لیکن مجھے رسول اللہ ﷺ نے ”دیہات میں رہنے کی اجازت دی تھی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17792
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 17793
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَرَجَ سَلَمَةُ إِلَى الرَّبَذَةِ، وَتَزَوَّجَ هُنَاكَ امْرَأَةً، وَوُلِدَ لَهُ أَوْلَادٌ، فَلَمْ يَزَلْ هُنَاكَ حَتَّى قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ فَنَزَلَ يَعْنِي الْمَدِينَةَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن ابی عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو سیدنا سلمہ (بن الاکوع) رضی اللہ عنہ ربذہ کی طرف چلے گئے اور وہاں پر ہی ایک عورت سے شادی کر لی اور ان کے ہاں بہت زیادہ اولاد ہوئی۔ وہ ربذہ میں ہی رہے حتیٰ کہ موت سے چند راتیں پہلے مدینہ میں آئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17793
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»