کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حدود کے معاملات میں سفارش کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ قُرَيْشًا هَمُّوا بِشَأْنِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ: " يَا أُسَامَةُ، تَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ "، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَقَالَ: " إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهُمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهُمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قریش نے ارادہ کیا کہ مخزومیہ عورت جس نے چوری کرلی تھی کے بارے میں کوئی نبی ﷺ سے بات کرے، تو فیصلہ ہوا کہ اتنی ہمت صرف سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ہی کرسکتے ہیں، وہ محبوبِ رسول ہیں، تو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے بات کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اسامہ! کیا اللہ کی حدود میں تو سفارش کررہا ہے؟“ پھر آپ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”تم سے پہلے لوگ اسی لیے ہلاک ہوئے کہ ان میں کوئی امیر چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور غریب پر حد قائم کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی چوری کرتیں تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، أَنَّهُمْ جَلَسُوا لِابْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهُ أَرَادَ الْجُلُوسَ مَعَنَا حَتَّى قُلْنَا: هَلُمَّ إِلَى الْمَجْلِسِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ تَذَمَّمَ، قَالَ: فَجَلَسَ فَسَكَتْنَا فَلَمْ يَتَكَلَّمْ مِنَّا أَحَدٌ، فَقَالَ: مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُونَ، أَلَا تَقُولُونَ: ⦗٥٧٧⦘ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ؟ فَإِنَّ الْوَاحِدَةَ بِعَشْرٍ، وَالْعَشْرَ بِمِائَةٍ، وَالْمِائَةَ بِأَلْفٍ، وَمَا زِدْتُمْ زَادَكُمُ اللهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حَدِّ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ ضَادَّ اللهَ فِي أَمْرِهِ، وَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَلَيْسَ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ وَلَكِنَّهَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ، وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللهِ حَتَّى يَنْزِعَ، وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي رَدْغَةِ خَبَالٍ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن راشد دمشقی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس آ کر بیٹھے۔ ہم خاموش تھے تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: خاموش کیوں ہو؟ بولتے کیوں نہیں! تم «سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ» ”اللہ اپنی تعریفوں کے ساتھ پاک ہے“ کیوں نہیں کہتے؟ یہ ایک دس کے، اور دس سو کے، اور سو ہزار کے برابر ہے اور جتنا زیادہ پڑھو گے اللہ زیادہ کرتے جائیں گے۔ میں نے نبی ﷺ سے سنا: ”جس کی شفاعت حدود اللہ میں سے کسی حد کے آڑے آ گئی، اس نے اپنے معاملے میں اللہ سے ضد کی ہے اور جو مر گیا اور اس پر قرض ہے تو وہ دینار و درہم سے نہیں بلکہ نیکیوں اور برائیوں کی صورت میں ادا ہوگا اور جو کسی باطل کے لیے لڑتا ہے اور وہ جانتا بھی ہے تو وہ ہمیشہ اللہ کی ناراضگی میں رہتا ہے جب تک کہ اس سے پیچھے نہ ہٹ جائے اور جو کسی مومن کے لیے ناحق بات کہتا ہے تو اللہ اسے جہنم کے کیچڑ میں ڈالیں گے، یہاں تک کہ وہ نکل جائے جو اس نے کہا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحَنْظَلِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الْمُؤَذِّنُ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ حَدَّثَهُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ وَهُمْ جُلُوسٌ: " مَا لَكُمْ لَا تَتَكَلَّمُونَ؟ مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، كَتَبَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَمَنْ قَالَهَا عَشْرًا كَتَبَ اللهُ لَهُ مِائَةَ حَسَنَةٍ، وَمَنْ قَالَهَا مِائَةَ مَرَّةٍ كَتَبَ اللهُ لَهُ أَلْفَ حَسَنَةٍ، وَمَنْ زَادَ زَادَهُ اللهُ، وَمَنِ اسْتَغْفَرَ غَفَرَ اللهُ لَهُ، وَمَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ فَقَدْ ضَادَّ اللهَ فِي حُكْمِهِ، وَمَنِ اتَّهَمَ بَرِيئًا صَيَّرَهُ اللهُ إِلَى طِينَةِ الْخَبَالِ حَتَّى يَأْتِيَ بِالْمَخْرَجِ مِمَّا قَالَ، وَمَنِ انْتَفَى مِنْ وَلَدِهِ يَفْضَحُهُ بِهِ فِي الدُّنْيَا فَضَحَهُ اللهُ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا اور صحابہ کرام بیٹھے ہوئے تھے: ”تم کچھ بولتے کیوں نہیں؟ جس نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» ”اللہ پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے“ کہا اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے اور جس نے دس دس مرتبہ کہا اس کے سو اور جس نے سو مرتبہ کہا اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھ دیتا ہے۔ جو زیادہ کرے گا اللہ بھی زیادہ کر دے گا اور جو اللہ سے استغفار کرے گا اللہ اسے بخش دے گا؛ جس کی شفاعت حدود اللہ میں سے کسی حد کے آڑے آ گئی تو اس نے اپنے معاملے میں اللہ سے ضد کی اور جس نے کسی بے گناہ پر تہمت لگائی تو اللہ اسے «طِينَةِ الْخَبَالِ» ”جہنم کے کیچڑ“ میں ڈالے گا یہاں تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نکلنے کی راہ لے آئے، اور جو دنیا میں اپنے بچے کا انکار کرے گا اس کو رسوا کرنے کے لیے تو اللہ اسے تمام مخلوقات کے سامنے قیامت کے دن رسوا کرے گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " اشْفَعُوا فِي الْحُدُودِ مَا لَمْ تَبْلُغِ السُّلْطَانَ، فَإِذَا بَلَغَتِ السُّلْطَانَ فَلَا تَشْفَعُوا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”حدود میں سفارش کرو جب تک بادشاہ تک معاملہ نہ پہنچا ہو، اور جب بادشاہ تک معاملہ پہنچ جائے تو پھر سفارش نہ کرو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنِ الْفُرَافِصَةِ الْحَنَفِيِّ، قَالَ: مَرَّ عَلَيْنَا الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ أَخَذْنَا سَارِقًا، فَجَعَلَ يَشْفَعُ لَهُ فَقَالَ: أَرْسِلُوهُ، قَالَ: قُلْنَا: يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ تَأْمُرُنَا أَنْ نُرْسِلَهُ؟ قَالَ: إِنَّ ذَلِكَ يُفْعَلُ دُونَ السُّلْطَانِ، فَإِذَا بَلَغَ السُّلْطَانَ فَلَا أَعْفَاهُ اللهُ إِنْ أَعْفَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
فرافصہ حنفی کہتے ہیں کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے، ہم نے ایک چور کو پکڑا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کی سفارش کی کہ اسے چھوڑ دو۔ ہم نے کہا: اے ابو عبد اللہ! آپ ہمیں اسے چھوڑنے کا کہہ رہے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سلطان سے پہلے یہ کہا جا سکتا ہے، اگر سلطان تک بات چلی گئی تو اگر وہ (سلطان) اسے معاف کرے تو اللہ اسے معاف نہ کرے۔