کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اللہ عزوجل کے پردہ ڈالنے کی وجہ سے (اپنے گناہوں کو) چھپانے کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17599
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: قَالَ سَالِمٌ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ، وَإِنَّ مِنَ الْإِجْهَارِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ فِي اللَّيْلِ عَمَلًا ثُمَّ يُصْبِحُ وَقَدْ سَتَرَهُ رَبُّهُ فَيَقُولُ: يَا فُلَانُ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ، يَبِيتُ فِي سِتْرِ رَبِّهِ وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللهِ عَنْهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ مَعْرُوفٌ عِنْدَنَا، وَهُوَ غَيْرُ مُتَّصِلِ الْإِسْنَادِ فِيمَا أَعْرِفُهُ، وَهُوَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ مِنْ هَذِهِ الْقَاذُورَةِ شَيْئًا فَلْيَسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللهِ، فَإِنَّهُ مَنْ يُبْدِ لَنَا صَفْحَتَهُ نُقِمْ عَلَيْهِ كِتَابَ اللهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری ساری امت سے درگزر کر دیا جائے گا علاوہ مجاہرین کے اور مجاہر وہ ہے جو رات میں کوئی عمل کرتا ہے اللہ اس پر پردہ ڈال دیتا ہے اور یہ صبح لوگوں کو بتاتا ہے کہ میں نے یہ کام کیا۔ اللہ نے رات میں اس کے اوپر پردہ ڈالا اور یہ اللہ کے پردے کو کھول رہا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک غیرمتصل سند سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے اس گندگی سے کچھ پہنچے پھر تو اسے چاہیے کہ اللہ کی پردہ پوشی کا پاس و لحاظ رکھے اور جو ہمارے سامنے اپنی رسوائی کو ظاہر کرے گا، ہم اس پر کتاب اللہ کے مطابق حد لگائیں گے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک غیرمتصل سند سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے اس گندگی سے کچھ پہنچے پھر تو اسے چاہیے کہ اللہ کی پردہ پوشی کا پاس و لحاظ رکھے اور جو ہمارے سامنے اپنی رسوائی کو ظاہر کرے گا، ہم اس پر کتاب اللہ کے مطابق حد لگائیں گے۔“
حدیث نمبر: 17600
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرِجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رحمہ اللہ سے سابقہ روایت ہے۔
حدیث نمبر: 17601
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ رَجَمَ الْأَسْلَمِيَّ قَالَ: " اجْتَنِبُوا هَذِهِ الْقَاذُورَةَ الَّتِي نَهَى الله عَنْهَا، فَمَنْ أَلَمَّ فَلْيَسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اسلمی کو رجم کرنے کے بعد فرمایا تھا: ”ان برائیوں سے بچو، جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے، اگر کسی سے ہو جائے تو اللہ کے پردے سے پردہ پوشی کرو۔“
حدیث نمبر: 17602
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ⦗٥٧٣⦘ بِشْرٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ مُوسَى الْفَرْوِيُّ، ثنا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، زَادَ: " وَلْيَتُبْ إِلَى اللهِ، فَإِنَّهُ مَنْ يُبْدِ لَنَا صَفْحَتَهُ نُقِمْ كِتَابَ اللهِ عَلَيْهِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِيَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا أَصَابَ حَدًّا بِالِاسْتِتَارِ، وَأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَرَهُ بِهِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ مَضَى إِسْنَادُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي بَابِ الِاعْتِرَافِ بِالزِّنَا.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکا ہے۔“
حدیث نمبر: 17603
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنِ الْمَعْرُورِ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِامْرَأَةٍ قَدْ زَنَتْ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّمَا جَعَلَ اللهُ أَرْبَعَةَ شُهَدَاءَ سِتْرًا يَسْتُرُكُمْ دُونَ فَوَاحِشِكُمْ، فَلَا يَتَطَلَّعَنَّ سِتْرَ اللهِ أَحَدٌ، أَلَا وَإِنَّ اللهَ لَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ وَاحِدًا صَادِقًا أَوْ كَاذِبًا قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَنَحْنُ نُحِبُّ لِمَنْ أَصَابَ الْحَدَّ أَنْ يَسْتَتِرَ وَأَنْ يَتَّقِيَ اللهَ وَلَا يَعُودَ لِمَعْصِيَةِ اللهِ، فَإِنَّ اللهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ.
حافظ ثناء اللہ
تقدم برقم ١٧٥٨٣
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پسند ہے کہ اگر کسی سے کوئی حدود والا گناہ ہو جائے تو وہ اپنا پردہ کرے اور اللہ سے ڈرے، دوبارہ گناہ نہ کرے اور اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتے ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پسند ہے کہ اگر کسی سے کوئی حدود والا گناہ ہو جائے تو وہ اپنا پردہ کرے اور اللہ سے ڈرے، دوبارہ گناہ نہ کرے اور اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتے ہیں۔