کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: صحیح سالم آنکھوں والا کانے کی آنکھ پھوڑ دے، اور کانا صحیح سالم آنکھوں والے کی آنکھ پھوڑ دے تو اس کے احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 16291
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، قَالَ: كَانَ فِي كِتَابِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى نَجْرَانَ: " فِي كُلِّ سِنٍّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْأَصَابِعِ فِي كُلِّ مَا هُنَالِكَ عَشْرٌ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْأُذُنِ خَمْسُونَ، وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ، وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ، وَفِي الْأَنْفِ إِذَا اسْتُؤْصِلَ الْمَارِنُ الدِّيَةُ كَامِلَةً، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ النَّفْسِ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ النَّفْسِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا يَجُوزُ أَنْ يُقَالَ: فِي عَيْنِ الْأَعْوَرِ الدِّيَةُ، وَإِنَّمَا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَيْنِ بِخَمْسِينَ، وَهِيَ نِصْفُ دِيَةٍ، وَعَيْنُ الْأَعْوَرِ لَا تَعْدُو أَنْ تَكُونَ عَيْنًا.
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جب عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو نجران کی طرف بھیجا تھا تو ایک خط لکھ کر دیا تھا جس میں تھا کہ: ”ہر دانت کے بدلے پانچ اونٹ ہیں اور ہر انگلی میں دس اونٹ اور کان، آنکھ اور پاؤں میں پچاس، پچاس اونٹ اور ناک جب جڑ سے کاٹ دی جائے تو مکمل دیت ہے اور سر کے گہرے زخم اور پیٹ کے زخم میں ثلث دیت ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کانے کی آنکھ میں دیت صحیح نہیں؛ کیونکہ نبی ﷺ نے آنکھ کے بارے میں نصف دیت کا فرمایا ہے اور کانے کی تو آنکھ، آنکھ شمار ہوتی ہی نہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کانے کی آنکھ میں دیت صحیح نہیں؛ کیونکہ نبی ﷺ نے آنکھ کے بارے میں نصف دیت کا فرمایا ہے اور کانے کی تو آنکھ، آنکھ شمار ہوتی ہی نہیں۔
حدیث نمبر: 16292
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، فِي الْأَعْوَرِ تُصَابُ عَيْنُهُ الصَّحِيحَةُ، فَقَالَ: مَا أَنَا فَقَأْتُ عَيْنَهُ، أَنَا أَدِي قَتِيلَ اللهِ، فِيهَا نِصْفُ الدِّيَةِ.
حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کانے کے بارے میں جس کی صحیح آنکھ میں کوئی مار دے تو انہوں نے کہا: میں نہیں سمجھتا مگر یہ کہ (اس میں) نصف دیت ہی (واجب) ہے۔
حدیث نمبر: 16293
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، كَذَا قَالَ: فِي أَعْوَرَ فَقَأَ عَيْنَ صَحِيحٍ، قَالَ: الْعَيْنُ بِالْعَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ”نابینا یا کانا جب کسی کی آنکھ کو پھوڑ دے تو آنکھ کے بدلے آنکھ ہے۔“
حدیث نمبر: 16294
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: فِي الْأَعْوَرِ إِذَا فُقِئَتْ عَيْنُهُ، قَالَ: إِنْ شَاءَ أَخَذَ الدِّيَةَ كَامِلًا، وَإِنْ شَاءَ أَخَذَ نِصْفَ الدِّيَةِ، وَفَقَأَ بِالْأُخْرَى إِحْدَى عَيْنَيِ الْفَاقِئِ وَرَوَاهُ أَيْضًا قَتَادَةُ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَرَوَى فِي ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کانے کی اگر آنکھ پھوڑ دی جائے، چاہے تو وہ مکمل دیت لے لے اور چاہے تو نصف دیت لے لے اور دوسری آنکھ کے بدلے آنکھ پھوڑ دے۔
حدیث نمبر: 16295
أَخْبَرْنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَضَى فِي أَعْوَرَ فُقِئَتْ عَيْنُهُ: أَنَّ لَهُ الدِّيَةَ كَامِلَةً، ⦗١٦٥⦘ قَالَ:.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک کانے کے بارے میں فیصلہ فرمایا جس کی آنکھ پھوڑ دی گئی تھی کہ اس کے لیے مکمل دیت ہے۔
حدیث نمبر: 16296
وَحَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے سابقہ روایت۔
حدیث نمبر: 16297
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: فِي عَيْنِ الْأَعْوَرِ إِذَا فُقِئَتْ عَيْنُهُ الْبَاقِيَةُ عَمْدًا الْقَوَدُ، لَا يُزَادُ أَنْ يُقَادَ بِهَا عَيْنًا مِثْلَهَا، فَإِنْ قَبِلَ فِيهَا الْعَقْلَ، فَفِيهَا الدِّيَةُ كَامِلَةً؛ لِأَنَّهَا بَقِيَّةُ بَصَرِهِ،.
حافظ ثناء اللہ
ابن مسیب رحمہ اللہ کانے کی آنکھ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر وہ پھوڑ دی جائے تو صحیح آنکھ ہے اور اس میں قصاص ہے، اگر وہ دیت قبول کرلے تو مکمل دیت ہے۔
حدیث نمبر: 16298
قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، وَاسْتُفْتِيَ فِي الرَّجُلِ يَكُونُ أَعْوَرَ ثُمَّ تُصَابُ عَيْنُهُ الْأُخْرَى، فَقَالَ: لَهُ الدِّيَةُ،.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں فتویٰ طلب کیا گیا جو کانا ہو اور اس کی دوسری آنکھ بھی پھوڑ دی جائے تو فرمایا: اس میں دیت ہے۔
حدیث نمبر: 16299
قَالَ: وَأَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: فِي أَعْوَرَ فَقَأَ عَيْنَ رَجُلٍ صَحِيحٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَضَى اللهُ فِي كِتَابِهِ أَنَّ الْعَيْنَ بِالْعَيْنِ، فَعَيْنُهُ قَوَدٌ، وَإِنْ كَانَ بَقِيَّةَ بَصَرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ اس کانے آدمی کے بارے میں فرماتے ہیں جو صحیح آدمی کی آنکھ کو پھوڑ دے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ﴿وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ﴾ [سورة المائدة: 45] ”آنکھ کے بدلے آنکھ“ کا فرمایا ہے تو اس سے قصاص ہی لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 16300
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، رُفِعَ إِلَيْهِ أَعْوَرُ فَقَأَ عَيْنَ صَحِيحٍ، فَلَمْ يَقْتَصَّ مِنْهُ، وَقَضَى فِيهِ بِالدِّيَةِ كَامِلَةً قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: ظَاهِرُ الْكِتَابِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْعَيْنَ بِالْعَيْنِ، وَظَاهِرُ السُّنَّةِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ فِي أَحَدِهِمَا نِصْفُ الدِّيَةِ وَلَمْ يُفَرِّقْ، فَهُوَ أَوْلَى وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کانا شخص لایا گیا جس کی صحیح آنکھ پھوڑ دی گئی تھی، تو آپ رضی اللہ عنہ نے قصاص نہیں دلوایا بلکہ مکمل دیت دلوائی۔
حدیث نمبر: 16301
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ عَنِ الْأَعْوَرِ، تُفْقَأُ عَيْنُهُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَفْوَانَ: قَضَى فِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالدِّيَةِ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَوَلَيْسَ يُحَدِّثُكَ عَنْ عُمَرَ؟ ظَاهِرُ هَذَا أَنَّهُ حَكَمَ فِيهِ بِجَمِيعِ الدِّيَةِ وَقَدْ يُحْتَمَلُ أَنَّهُ حَكَمَ فِيهَا بِدِيَتِهَا، وَظَاهِرُهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ لَا يَقُولُ فِيهَا بِوجُوبِ جَمِيعِ الدِّيَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابومجلز کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کانے کے بارے میں سوال کیا جس کی آنکھ پھوڑ دی جائے تو عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیت کا فیصلہ فرمایا۔ میں نے کہا: میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کروں گا تو فرمایا: کیا وہ تمہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ نہیں بیان کر رہے؟ اور ظاہر یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں مکمل دیت کا فیصلہ فرمایا، لیکن اس کا بھی احتمال ہے کہ ایک آنکھ کی دیت کا فیصلہ فرمایا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ وہ مکمل دیت کے وجوب کے قائل نہیں تھے۔