کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دانت پر چوٹ لگنے سے اس کا سیاہ ہو جانا اور اس کا فائدہ (منفعت) زائل ہو جانے کے احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16267
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ السِّنَّ إِذَا اسْوَدَّتْ تَمَّ عَقْلُهَا، قَالَ لِي مَالِكٌ: وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا عَلَى ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دانت جب سیاہ ہو جائے تو اس کی دیت مکمل ہو گی۔
حدیث نمبر: 16268
قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: فِي السِّنِّ إِذَا أُصِيبَتْ فَاسْوَدَّتْ بَعْدَ ذَلِكَ فَسَقَطَتْ فِيهَا عَقْلُهَا كُلُّهُ كَامِلًا،.
حافظ ثناء اللہ
مخرمہ بن بکیر رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا وہ فرما رہے تھے: جب دانت پر چوٹ لگے اور وہ سیاہ ہو جائے تو اس میں مکمل دیت ہے۔
حدیث نمبر: 16269
قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَحْرٌ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، قَالَ: ذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ كَانَ مَعَ سَيْفِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمْرُ الْعُقُولِ: وَفِي السِّنِّ إِذَا اسْوَدَّتْ عَقْلُهَا كَامِلًا، وَإِذَا طُرِحَتْ بَعْدَ ذَلِكَ فَفِي عَقْلِهَا مَرَّةٌ أُخْرَى وَهَذَا مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن عبداللہ بن سالم کہتے ہیں کہ ہمیں بتایا گیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تلوار کے ساتھ دیت کے معاملات ملے کہ دانت جب سیاہ ہو جائے تو اس میں مکمل دیت ہے، اگر اس کے بعد پھر اسی پر مارا جائے تو اس میں دوبارہ دیت ہے۔
حدیث نمبر: 16270
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ، وَالسِّنِّ السَّوْدَاءِ، وَالْيَدِ الشَّلَّاءِ، ثُلُثُ دِيَتِهَا وَهَذَا إِنَّمَا أَرَادَ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّهُ أَوْجَبَ فِيهَا حُكُومَةً بَلَغَتْ ثُلُثَ دِيَتِهَا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنکھ جو ابھی قائم ہو، دانت جو سیاہ ہو جائے اور ہاتھ جو شل ہو جائے اس میں ثلث دیت ہے۔
حدیث نمبر: 16271
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبَّادٌ، أنبأ حَجَّاجٌ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فِي السِّنِّ إِذَا كُسِرَ بَعْضُهَا أُعْطِيَ صَاحِبُهَا بِحِسَابِ مَا نَقَصَ مِنْهَا، وَيُتَرَبَّصُ بِهَا حَوْلًا، فَإِنِ اسْوَدَّتْ تَمَّ عَقْلُهَا، وَإِلَّا لَمْ يُزَدْ عَلَى ذَلِكَ وَعَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زَيْدٍ مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر دانت آدھا توڑا جائے تو ٹوٹنے کے حساب سے اسے دیت دی جائے گی، پھر ایک سال چھوڑ دیا جائے گا۔ اگر مکمل سیاہ ہو جاتا ہے تو مکمل دیت ہو گی ورنہ نہیں۔