أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَضَى فِي الْمَوَاضِحِ خَمْسًا خَمْسًا مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْأَسْنَانِ خَمْسًا خَمْسًا، وَفِي الْأَصَابِعِ عَشْرًا عَشْرًا.
حافظ ثناء اللہ
یہ حدیث پہلے نمبر (16195) کے تحت گزر چکی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دانت میں پانچ اونٹ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْفِهْرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، يَقُولُ: مَضَتِ السُّنَّةُ أَشْيَاءَ مِنَ الْإِنْسَانِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: وَفِي الْأَسْنَانِ الدِّيَةُ وَرَوَى فِي حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ مَرْفُوعًا: وَفِي الْأَسْنَانِ كُلِّهَا مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ، وَحَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ مُنْقَطِعٌ، وَرِوَايَةُ مَنْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي كُلِّ سِنٍّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ أَكْثَرُ وَأَشْهَرُ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے اعضاء میں سنت مقرر ہوچکی ہے، پھر لمبی حدیث ذکر کی اور فرمایا: دانتوں میں بھی دیت ہے۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے ضعیف سند سے مرفوعاً روایت ہے کہ ”تمام دانتوں میں ١٠٠ اونٹ ہیں۔“ شریح کہتے ہیں کہ اگر دانت توڑ دیا جائے تو ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔ شعبی نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہی بیان کیا ہے اور مکحول نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے بھی ایسے ہی روایت کیا ہے۔
اور زید بن اسلم کی حدیث منقطع ہے، اور جنہوں نے نبی ﷺ سے یہ روایت کیا ہے کہ ”ہر دانت میں پانچ اونٹ ہیں“ ان کی روایت زیادہ اور زیادہ مشہور ہے۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے ضعیف سند سے مرفوعاً روایت ہے کہ ”تمام دانتوں میں ١٠٠ اونٹ ہیں۔“ شریح کہتے ہیں کہ اگر دانت توڑ دیا جائے تو ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔ شعبی نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہی بیان کیا ہے اور مکحول نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے بھی ایسے ہی روایت کیا ہے۔
اور زید بن اسلم کی حدیث منقطع ہے، اور جنہوں نے نبی ﷺ سے یہ روایت کیا ہے کہ ”ہر دانت میں پانچ اونٹ ہیں“ ان کی روایت زیادہ اور زیادہ مشہور ہے۔
وَهَذَا كُلُّهُ فِيمَا أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ شُرَيْحٍ، فَذَكَرَهُ،.
حافظ ثناء اللہ
شریح رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ اسے ایک سال مہلت دی جائے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَبَّادٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَهُ وَعَنْ عَبَّادٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زَيْدٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی اور حضرت زید رضی اللہ عنہما سے بھی ایسے ہی منقول ہے۔