کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان (غلاموں اور باندیوں) کی تادیب اور ان پر حدود قائم کرنے کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15802
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِبَّانَ التَّمَّارُ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، وَأَعْتَقَهَا، وَتَزَوَّجَهَا؛ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ مَمْلُوكٍ أَدَّى حَقَّ اللهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ؛ فَلَهُ أَجْرَانِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ. وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ صَالِحٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس لونڈی ہو وہ اسے اچھا ادب اور اچھی تعلیم سکھائے، پھر اسے آزاد کر کے اس سے شادی کرلے تو اس کے لیے دہرا اجر ہے اور جو غلام اللہ اور اپنے مالک کا حق ادا کرے گا تو اس کے لیے بھی دہرا اجر ہے۔“
حدیث نمبر: 15803
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ خَطَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى أَرِقَّائِكُمْ مَنْ أُحْصِنَ مِنْهُمْ، وَمَنْ لَمْ يُحْصَنْ، فَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ فَأَمَرَنِي أَنْ أَجْلِدَهَا، فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثُ عَهْدٍ بِالنُّفَاسِ، فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ تَمُوتَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: " أَحْسَنْتَ ". ⦗٢٠⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْمُقَدَّمِيِّ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، وَبَقِيَّةُ هَذَا الْبَابِ فِي كِتَابِ الْحُدُودِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو عبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا: ”اے لوگو! اگر تمہارے غلام بدکاری کریں تو ہر حال میں ان پر حدود قائم کرو۔ نبی ﷺ کی ایک لونڈی تھی جس سے زنا سرزد ہو گیا تھا، تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں اسے کوڑے ماروں۔ جب میں کوڑے مارنے گیا تو وہ نفاس سے تھی، تو میں نے سوچا اگر اس حالت میں کوڑے مارے تو یہ مر جائے گی، اور میں نے جا کر آپ ﷺ کو ساری بات بتا دی تو آپ ﷺ نے میری تعریف فرمائی۔“