کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جب غلام کھانا تیار کر کے لائے تو مالک کے لیے کیا کرنا مناسب ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 15781
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنبأ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُلَائِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَا: ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا صَنَعَ خَادِمُ أَحَدِكِمْ لَهُ طَعَامًا فَجَاءَ بِهِ قَدْ وَلِيَ حَرَّهُ، وَدُخَانَهُ، فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ فَلْيَأْكُلْ، فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا قَلِيلًا فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ " قَالَ دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ: الْأُكْلَةُ: اللُّقْمَةُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ: ”جب کسی کا غلام اس کے لیے کھانا بنا کر لائے تو اس غلام کو بھی اپنے ساتھ بٹھا لے؛ کیونکہ اس نے گرمی اور دھواں برداشت کیا ہے۔ اگر کھانا کم ہو تو ایک یا دو لقمے اسے ضرور دے دے۔“
امام مسلم رحمہ اللہ نے اسے اپنی صحیح میں عبداللہ بن مسلمہ قعنبی سے روایت کیا ہے۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے اسے اپنی صحیح میں عبداللہ بن مسلمہ قعنبی سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15782
أَخْبَرنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَفَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ فَلْيَدْعُهُ فَلْيُجْلِسْهُ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُرَوِّغْ لَهُ لُقْمَةً فَلْيُنَاوِلْهُ إِيَّاهَا أَوْ يُعْطِهِ إِيَّاهَا ". أَوْ كَلِمَةً هَذَا مَعْنَاهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی غلام اپنے مالک کے لیے کھانا بنائے تو مالک کو چاہیے کہ اسے بھی اپنے ساتھ کھلائے، اگر وہ نہ کھائے تو اس کے لیے ایک یا دو لقمے ضرور چھوڑ دے۔“