کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس بیان میں کہ دوسرا شوہر (نکاحِ ثانی) سابقہ طلاقوں میں سے کن کو ختم کر دیتا ہے اور کن کو ختم نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 15144
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، نا أَبُو الطَّاهِرِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ قَطُّ إِلَّا ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ، ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللهِ: قَوْلُهُ {إِنِّي سَقِيمٌ} [الصافات: ٨٩] وَقَوْلُهُ {بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا} [الأنبياء: ٦٣] وَوَاحِدَةٌ فِي شَأْنِ سَارَةَ، فَإِنَّهُ قَدِمَ أَرْضَ جَبَّارٍ وَمَعَهُ سَارَةُ وَكَانَتْ أَحْسَنَ النَّاسِ فَقَالَ لَهَا: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ إِنْ يَعْلَمْ أَنَّكِ امْرَأَتِي يَغْلِبْ عَلَيْكِ، فَإِنْ سَأَلَكِ فَأَخْبِرِيهِ أَنَّكِ أُخْتِي، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمًا غَيْرِي وَغَيْرَكِ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْضَهُ رَآهَا بَعْضُ أَهْلِ الْجَبَّارِ فَأَتَاهُ فَقَالَ لَهُ: لَقَدْ دَخَلَ أَرْضَكَ الْآنَ امْرَأَةٌ لَا يَنْبَغِي أَنْ تَكُونَ إِلَّا لَكَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَأَتَى بِهَا، وَقَامَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ لَمْ يَتَمَالَكْ أَنْ بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقُبِضَتْ يَدُهُ قَبْضَةً شَدِيدَةً فَقَالَ لَهَا: ادْعِي اللهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِيَّ وَلَا أَضُرُّكِ، فَفَعَلَتْ فَعَادَ، فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَةِ الْأُولَى، فَقَالَ لَهَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَعَادَ فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، فَقَالَ: ادْعِي اللهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِيَّ وَلَكِ اللهُ أَنْ لَا أَضُرُّكِ، فَفَعَلَتْ، فَأُطْلِقَتْ يَدُهُ، وَدَعَا الَّذِي جَاءَ بِهَا فَقَالَ لَهُ: إِنَّكَ إِنَّمَا أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ وَلَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، فَأَخْرِجْهَا مِنْ أَرْضِي وَأَعْطِهَا هَاجَرَ، قَالَ: فَأَقْبَلَتْ تَمْشِي، فَلَمَّا رَآهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ انْصَرَفَ فَقَالَ لَهَا: مَهْيَمْ؟ فَقَالَتْ: خَيْرًا، كَفَّ اللهُ يَدَ الْفَاجِرِ وَأَخْدَمَ خَادِمًا " قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ تَلِيدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین جھوٹ بولے، دو اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں: ایک «إِنِّي سَقِيمٌ» ”میں بیمار ہوں“ ﴿إِنِّي سَقِيمٌ﴾ [سورة الصافات: 89] اور دوسرا «بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا» ”ان کے بڑے نے کیا ہے“ ﴿بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ [سورة الأنبياء: 63]۔ ایک سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں جب وہ ایک ظالم حکمران کی سرزمین میں تھے اور ان کے ساتھ سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ وہ بہت زیادہ خوبصورت تھیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: ”یہ ظالم ہے، اگر اس کو پتا چل گیا کہ تو میری بیوی ہے تو یہ چھین لے گا، اگر آپ سے پوچھے تو کہہ دینا تو میری بہن ہے؛ کیونکہ تو میری اسلامی بہن ہے، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ زمین پر میرے اور تیرے علاوہ کوئی مسلمان ہو۔“ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس کی سرزمین میں داخل ہوئے تو بعض ظالموں نے سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کو دیکھ لیا تو اپنے بادشاہ کے پاس آ کر کہنے لگے کہ آپ کی سرزمین پر ایسی عورت آئی ہے جو صرف آپ کے لائق ہے تو اس نے اپنے کارندے بھیج کر منگوایا اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام نماز میں مصروف ہو گئے۔ جب سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کو اس کے پاس لایا گیا تو وہ اپنا ہاتھ ان تک نہ لے سکا بلکہ اس کے ہاتھ بند ہو گئے۔ اس ظالم نے سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ دعا کریں میرے ہاتھ کھل جائیں، میں تجھے نقصان نہ دوں گا تو سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے دعا کر دی۔ اس نے دوبارہ حرکت کرنی چاہی تو اس کے ہاتھ پہلے سے بھی زیادہ سختی سے بند کر دیے گئے تو اس نے پھر دعا کی درخواست کی اور تیسری مرتبہ پھر حرکت کے ارتکاب کا ارادہ کیا تو تیسری مرتبہ مزید سختی سے پکڑ لیا گیا تو کہنے لگا: ”آپ اللہ سے دعا کریں کہ میرے ہاتھ کھول دیے جائیں، اللہ کی قسم! میں تجھے نقصان نہ دوں گا“ تو سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر دعا کر دی۔ اس کے ہاتھ کھول دیے گئے۔ پھر اس نے لانے والے کو بلایا کہ تو میرے پاس شیطان کو لایا ہے کسی انسان کو نہیں، ان کو میری سرزمین سے نکال دو اور ہاجرہ رضی اللہ عنہا بھی ساتھ دے دینا۔ وہ ان کے آگے چل رہی تھیں، جب انہیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ آ گئی ہیں تو فرمانے لگے: ”رکیے، کیا حالت ہے؟“ فرماتی ہیں کہ اللہ نے ظالم کے ہاتھ روک لیے اور اس نے ایک خادمہ عطا کی ہے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ تمہاری ماں ہے اے آسمان کے پانی کے بیٹو!“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15144
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 15145
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَّا ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مَوْقُوفًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَبَيْنَمَا هُوَ فِي أَرْضِ جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ وَمَعَهُ سَارَةُ إِذْ قِيلَ لِذَلِكَ الْمَلِكِ: إِنَّ هَاهُنَا رَجُلًا مَعَهُ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَتَاهُ فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْمَرْأَةُ؟ قَالَ: أُخْتِي، قَالَ: اذْهَبْ فَأَرْسِلْ بِهَا إِلِيَّ، فَأَتَاهَا فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ سَأَلَنِي عَنْكِ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي، فَلَا تُكَذِّبِينِي عِنْدَهُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَأَنْتِ أُخْتِي فِي الْإِسْلَامِ، قَالَ: فَانْطَلَقَتْ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
محمد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین جھوٹ بولے۔“ انھوں نے موقوف حدیث ذکر کی کہ جب وہ ظالموں میں سے کسی ظالم کی سرزمین میں تھے اور ان کے ساتھ سارہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ جب اس بادشاہ سے کہا گیا کہ یہاں ایک شخص ہے اس کے ساتھ تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت عورت ہے تو اس نے ابراہیم علیہ السلام کو بلوایا اور پوچھا: ”یہ عورت کون ہے؟“ فرمانے لگے: ”یہ میری بہن ہے۔“ اس نے کہا: ”جاؤ اس کو میرے پاس بھیج دو۔“ سارہ رضی اللہ عنہا اس کے پاس آئیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا: ”اگر وہ تجھ سے سوال کرے تو بتا دینا تو میری بہن ہے، اس کے پاس میری تکذیب نہ کرنا؛ کیونکہ روئے زمین پر میرے اور تیرے علاوہ کوئی مسلمان نہیں تو میری اسلامی بہن ہے۔“ راوی کہتے ہیں: وہ چلی گئیں۔۔۔ اور بقیہ حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15145
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»