کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بیان میں کہ عورت اپنی باری کا ہبہ کیا ہوا دن (کسی دوسری سوکن کو دیا ہوا تحفہ) واپس لے سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 14737
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ فِي قَوْلِهِ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا} [النساء: ١٢٨] أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا قَالَ: " هُوَ الرَّجُلُ تَكُونُ عِنْدَهُ امْرَأَتَانِ فَتَكُونُ إِحْدَاهُمَا قَدْ عَجَزَتْ أَوْ تَكُونُ دَمِيمَةً فَيُرِيدُ فِرَاقَهَا فَتُصَالِحُهُ عَلَى أَنْ يَكُونَ عِنْدَهَا لَيْلَةً، وَعِنْدَ الْأُخْرَى لَيَالِيَ وَلَا يُفَارِقُهَا فَمَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهَا فَلَا بَأْسَ بِهِ فَإِنْ رَجَعَتْ سَوَّى بَيْنَهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا﴾ [سورة النساء: 128] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ایک شخص جس کے نکاح میں دو عورتیں تھیں، ایک بوڑھی یا سیاہ رنگ کی تھی تو اس نے طلاق دینے کا ارادہ کر لیا، تو عورت نے صلح کر لی کہ اس کے پاس ایک رات اور دوسری کے پاس دو راتیں رہ لیا کرے۔ جب اس کا نفس اچھا ہو جائے تو پھر کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ رجوع کر لے کہ دونوں میں برابر کی باری تقسیم کر لے۔