کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو اگر اپنے پیچھے ناتواں اولاد چھوڑ جائیں تو انہیں ان کا اندیشہ ہو، پس انہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے اور سیدھی بات کہنی چاہیے“ کے متعلق جو مروی ہے اور وصیت میں نقصان پہنچانے کی ممانعت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: " {وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ} [النساء: ٩]، يَعْنِي الرَّجُلَ يَحْضُرُهُ الْمَوْتُ فَيُقَالُ لَهُ: تَصَدَّقْ مِنْ مَالِكَ، وَأَعْتِقْ، وَأَعْطِ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَنُهُوا أَنْ يَأْمُرُوهُ بِذَلِكَ، يَعْنِي مَنْ حَضَرَ مِنْكُمْ مَرِيضًا عِنْدَ الْمَوْتِ فَلَا يَأْمُرُهُ أَنْ يُنْفِقَ مَالَهُ فِي الْعِتْقِ وَالصَّدَقَةِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ، وَلَكِنْ يَأْمُرُهُ أَنْ يُبَيِّنَ مَا لَهُ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ وَيُوصِي مِنْ مَالِهِ لِذِي قَرَابَتِهِ الَّذِينَ لَا يَرِثُونَ، يُوصِي لَهُمْ بِالْخُمُسِ أَوِ الرُّبُعِ، يَقُولُ: أَيَسُرُّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ وَلَهُ وَلَدٌ ضِعَافٌ، يَعْنِي صِغَارًا، أَنْ يَتْرُكَهُمْ بِغَيْرِ مَالٍ؛ فَيَكُونُوا عِيَالًا عَلَى النَّاسِ، فَلَا يَنْبَغِي أَنْ تَأْمُرُوهُ بِمَا لَا تَرْضَوْنَ بِهِ لِأَنْفُسِكُمْ وَلِأَوْلَادِكُمْ، وَلَكِنْ قُولُوا الْحَقَّ مِنْ ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت ﴿وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ﴾ [سورة النساء: 9] کے بارے میں منقول ہے، یعنی آدمی کو موت آنے لگے تو اسے کہا جائے: اپنے مال سے صدقہ کرو اور آزاد کر دو اور اس سے اللہ کے راستے میں دو۔ پس منع کیا گیا ہے کہ وہ اسے ایسی باتوں کا حکم دیں، یعنی تم میں سے کوئی جس مریض کو موت آئے اس کے پاس آکر اسے یہ حکم نہ دے کہ وہ اپنے مال سے خرچ کر دے۔ آزاد کرنے میں، صدقہ میں، اللہ کے راستہ میں اسے حکم دے کہ وہ واضح کرے اس پر کیا قرض ہے یا کسی دوسرے پر اس کا قرض ہے اور اپنے مال سے وصیت کرے ان رشتہ داروں کے لیے جو وارث نہ ہوں، ان کے لیے خمس یا ربع کی وصیت کرے اور وہ کہے: ”تم میں سے کسی کو پسند ہے کہ جب وہ فوت ہو اور اس کی اولاد چھوٹی ہو اور وہ اسے بغیر مال کے چھوڑ دے اور وہ لوگوں کی محتاج ہو جائے؟“ یہ درست نہیں کہ تم اس بات کا حکم دو جو اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے پسند نہیں کرتے، لہٰذا حق بات کہو۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا " فَهَذَا الرَّجُلُ يَحْضُرُ الرَّجُلَ عِنْدَ مَوْتِهِ فَيُسْمِعُهُ يُوصِيهِ يَضُرُّ بِوَرَثَتِهِ، فَأَمَرَ اللهُ سُبْحَانَهُ الَّذِي يُسْمِعُهُ أَنْ يَتَّقِيَ اللهَ وَيُفَقِّهَهُ وَيُسَدِّدَهُ لِلصَّوَابِ، وَلْيَنْظُرْ لِوَرَثَتِهِ كَمَا يُحِبُّ أَنْ يُصْنَعَ بِوَرَثَتِهِ إِذَا خَشِيَ عَلَيْهِمُ الضَّيْعَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ﴾ [سورة النساء: 9] یعنی آدمی دوسرے کے پاس اس کی موت کے وقت حاضر ہوتا اور اسے ایسی وصیت کرتے سنتا جس سے اس کے ورثاء کو نقصان پہنچتا۔ اللہ تعالیٰ نے سننے والے کو حکم دیا کہ وہ اللہ سے ڈرے اور اسے سمجھائے اور درست بات کی طرف اس کی رہنمائی کرے اور اس کے ورثاء کا خیال کرے جیسے پسند کرتا ہے کہ اس کے اپنے ورثاء سے کیا جائے، جب ان پر فقر کا ڈر ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ {وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا} [النساء: ٩] قَالَ: " هَذَا عِنْدَ الْوَصِيَّةِ، يَقُولُ لَهُ مَنْ حَضَرَهُ: أَقْلَلْتَ فَأَوْصِ لِفُلَانٍ وَلِآلِ فُلَانٍ، يَقُولُ اللهُ {وَلْيَخْشَ} [النساء: ٩] أُولَئِكَ، {وَلْيَقُولُوا} [النساء: ٩] كَمَا يُحِبُّونَ أَنْ يُقَالَ لَهُمْ فِي وَلَدِهِ بَعْدَهُ، {وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا} [النساء: ٩]، يَعْنِي عَدْلًا ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا﴾ [سورة النساء: 9] کے بارے میں منقول ہے کہ یہ وصیت کے وقت ہے جو اس کے پاس آتا کہتا تو فلاں یا آلِ فلاں کے لیے وصیت کر دے، اللہ فرماتے ہیں: اسے ڈرنا چاہیے، یہی لوگ ہیں انھیں چاہیے کہ وہ ایسی بات کہیں جو اپنی اولاد کے لیے اپنے بعد پسند کرتے ہیں اور صحیح بات کریں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا ابْنُ شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ حَضَرَ رَجُلًا يُوصِي فَآثَرَ بَعْضَ الْوَرَثَةِ عَلَى بَعْضٍ، فَقَالَ لَهُ: " إِنَّ اللهَ سُبْحَانَهُ قَدْ قَسَمَ بَيْنَكُمْ فَأَحْسِنِ الْقَسْمَ، وَإِنَّهُ ⦗٤٤٤⦘ مَنْ يَرْغَبْ بِرَأْيِهِ عَنْ رَأْيِ اللهِ يَضِلَّ، فَأَوْصِ لِذِي قَرَابَةٍ مِمَّنْ لَا يَرِثُ، ثُمَّ دَعِ الْمَالَ كَمَا قَسَمَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ".
حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ ایک آدمی کے پاس گئے، وہ وصیت کر رہا تھا اور بعض ورثاء کو بعض پر ترجیح دے رہا تھا، مسروق رحمہ اللہ نے اسے کہا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان اچھی تقسیم کی ہے اور جو اپنی رائے کے ساتھ اللہ کی رائے سے بے رغبتی اختیار کرے گا وہ گمراہ ہو گیا، اپنے ان رشتہ داروں کے لیے وصیت کر جو وارث نہیں ہیں، پھر مال چھوڑ دے جیسے اللہ نے تقسیم کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُدَّانِيُّ، ثنا الْأَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ، أَوِ الْمَرْأَةُ، بِطَاعَةِ اللهِ سِتِّينَ سَنَةً، ثُمَّ يَحْضُرُهُمَا الْمَوْتُ فَيُضَارَّانِ فِي الْوَصِيَّةِ فَتَجِبُ لَهُمَا النَّارُ " وَقَالَ: ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ هَا هُنَا {مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ} [النساء: ١٢]، حَتَّى بَلَغَ {وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ} [النساء: ١٣].
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک آدمی یا عورت اللہ کی اطاعت والے اعمال ساٹھ سال تک کرتے ہیں، پھر ان کے پاس موت آتی ہے اور وہ وصیت کے ذریعے نقصان پہنچاتے ہیں، تو ان کے لیے آگ واجب ہے۔“ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آیت پڑھی: ﴿مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ﴾ [سورة النساء: 12] سے ﴿الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ [سورة النساء: 13] تک۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ إِمْلَاءً فِي الْمُحَرَّمِ سَنَةَ تِسْعٍ وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْإِضْرَارُ فِي الْوَصِيَّةِ مِنَ الْكَبَائِرِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وصیت میں نقصان دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " الْحَنَفُ فِي الْوَصِيَّةِ وَالْإِضْرَارُ فِيهَا مِنَ الْكَبَائِرِ " هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُ عَنْ دَاوُدَ مَوْقُوفًا، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَرْفُوعًا، وَرَفْعُهُ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وصیت میں ظلم اور نقصان کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
صحیح یہی ہے کہ یہ موقوف ہے، اسی طرح ابن عیینہ وغیرہ نے داود سے اسے موقوفاً روایت کیا ہے، اور ایک دوسری سند سے مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا ضعیف ہے۔
صحیح یہی ہے کہ یہ موقوف ہے، اسی طرح ابن عیینہ وغیرہ نے داود سے اسے موقوفاً روایت کیا ہے، اور ایک دوسری سند سے مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا ضعیف ہے۔