حدیث نمبر: 12113
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ قَالَ: وَثنا مُوسَى، ثنا أَبَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ⦗٣٢٧⦘ الْحِمْيَرِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ غَيْرُ أَبَانَ: إِنَّ عَامِرًا الشَّعْبِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ وَجَدَ دَابَّةً قَدْ عَجَزَ عَنْهَا أَهْلُهَا أَنْ يَعْلِفُوهَا فَسَيَّبُوهَا فَأَخَذَهَا فَأَحْيَاهَا فَهِيَ لَهُ " قَالَ فِي حَدِيثِ أَبَانَ: قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَقُلْتُ: عَمَّنْ قَالَ؟ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ حَمَّادٍ، وَهُوَ أَبْيَنُ وَأَتَمُّ.
حافظ ثناء اللہ
عامر شعبی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی ایسے جانور کو پائے کہ اس کے اہل اس سے بیماری کی وجہ سے عاجز آ چکے تھے اور انہوں نے اسے چھوڑ دیا، پھر کسی نے اسے پکڑ لیا اور اسے زندہ (تندرست) کیا تو وہ اسی (علاج کرنے والے) کا ہے۔“ عبید اللہ نے کہا: یہ حدیث کس سے منقول ہے؟ ابان نے کہا: کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 12114
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ تَرَكَ دَابَّةً بِمَهْلَكٍ فَأَحْيَاهَا رَجُلٌ فَهِيَ لِمَنْ أَحْيَاهَا ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ نبی ﷺ سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو جانور کو ہلاکت میں چھوڑ دے، پھر کوئی آدمی اسے زندہ کرے تو وہ اسی کی ہے جو اسے زندہ کرے۔“
حدیث نمبر: 12115
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ حُمَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ: " مَنْ قَامَتْ عَلَيْهِ دَابَّتُهُ فَتَرَكَهَا فَهِيَ لِمَنْ أَحْيَاهَا "، قُلْتُ: عَمَّنْ هَذَا يَا أَبَا عَمْرٍو؟ فَقَالَ: " إِنْ شِئْتَ عَدَدْتُ لَكَ كَذَا وَكَذَا مِنَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " هَذَا حَدِيثٌ مُخْتَلَفٌ فِي رَفْعِهِ، وَهُوَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْقَطِعٌ، وَكُلُّ أَحَدٍ أَحَقُّ بِمَالِهِ حَتَّى يَجْعَلَهُ لِغَيْرِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن حمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام شعبی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے: جس نے بیماری کی وجہ سے اپنے جانور کو چھوڑ دیا وہ اسی کا ہے جس نے اس کا علاج کر کے اسے تندرست کیا۔ عبیداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے ابوعمرو! یہ کس سے منقول ہے؟ انہوں نے کہا: اگر تو کہے تو میں اسے اصحابِ رسول ﷺ سے شمار کر دیتا ہوں۔
حدیث نمبر: 12116
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَالِدٌ، ثنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، فِي رَجُلٍ سَيَّبَ دَابَّتَهُ فَأَخَذَهَا رَجُلٌ فَأَصْلَحَهَا، قَالَ: قَالَ الشَّعْبِيُّ: " هَذَا قَدْ قُضِيَ فِيهِ إِنْ كَانَ سَيَّبَهَا فِي كَلَأٍ وَمَاءٍ وَأَمْنٍ فَصَاحِبُهَا أَحَقُّ بِهَا، وَإِنْ كَانَ سَيَّبَهَا فِي مَفَازَةٍ وَمَخَافَةٍ فَالَّذِي أَخَذَهَا أَحَقُّ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں منقول ہے جو اپنے جانور کو بیماری کی وجہ سے چھوڑ دے، پھر اسے کوئی دوسرا آدمی پکڑ لے اور اسے درست کر دے، شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”اس میں فیصلہ یہ ہے کہ اگر وہ اس کا علاج گھاس پانی سے کرے تو اس کا اصل مالک اس کا زیادہ حق دار ہے اور اگر وہ اس کا علاج کامیابی اور ڈر کی حالت میں کرے تو اسے پکڑنے والا اس کا حق دار ہے۔“