حدیث نمبر: 11952
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَغَيْرُهُمَا، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ نَحَلَ وَلَدًا لَهُ صَغِيرًا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَحُوزَ نَحْلُهُ، فَأَعْلَنَ بِهَا وَأَشْهَدَ عَلَيْهَا، فَهِيَ جَائِزَةٌ وَإِنْ وَلِيَهَا أَبُوهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے اپنے چھوٹے بچے کو عطیہ دیا جو ابھی قبضہ کی عمر کو نہیں پہنچا، اس نے اس (عطیہ) کا اعلان کیا اور اس پر گواہ بھی مقرر کیا تو وہ جائز ہے اور اس کا باپ اس کا ولی ہے۔
حدیث نمبر: 11953
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَسَدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَنْحَلُونَ أَوْلَادَهُمْ نِحْلَةً، فَإِذَا مَاتَ أَحَدُهُمْ قَالَ: مَالِي فِي يَدِي، وَإِذَا مَاتَ هُوَ قَالَ: قَدْ كُنْتُ نَحَلْتُهُ وَلَدِي، لَا نُحْلَةَ إِلَّا نُحْلَةً يَحُوزُهَا الْوَلَدُ دُونَ الْوَالِدِ، فَإِنْ مَاتَ وَرِثَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنی اولاد کو عطیہ دیتے ہیں، جب ان میں سے کوئی فوت ہو جاتا ہے تو کہتا ہے: میرا مال میرے پاس ہے۔ اگر خود فوت ہو جائے تو کہتا ہے کہ میں نے اپنے بیٹے کو عطیہ دیا تھا، کوئی عطیہ نہیں ہے مگر جس پر اس کی اولاد قبضہ کر لے، والد کے علاوہ۔ پس اگر وہ فوت ہو جائے تو یہ (عطیہ) اس کی وراثت میں شامل ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 11954
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: فَشُكِيَ ذَلِكَ إِلَى عُثْمَانَ " فَرَأَى أَنَّ الْوَالِدَ يَحُوزُ لِوَلَدِهِ إِذَا كَانُوا صِغَارًا ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف شکایت کی گئی تو آپ نے دیکھا کہ والد اپنی اولاد کو عطیہ دیتا ہے جبکہ وہ چھوٹی ہو۔