کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام (دورِ جاہلیت کے جانوروں) کے متعلق جو احکام مروی ہیں
حدیث نمبر: 11914
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: أَخْبَرَنِي، ح وَأنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: إِنَّ الْبَحِيرَةَ الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ فَلَا يَحْتَلِبُهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، وَالسَّائِبَةَ الَّتِي كَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِآلِهَتِهِمْ وَلَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْءٌ، قَالَا: وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رَأَيْتُ عَمْرًا الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ" قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ: وَالْوَصِيلَةُ النَّاقَةُ الْبِكْرُ تُبَكِّرُ فِي أَوَّلِ نِتَاجِ الْإِبِلِ بِالْأُنْثَى، ثُمَّ تُثَنِّي بَعْدَ ذَلِكَ بِالْأُنْثَى، وَكَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِطَوَاغِيتِهِمْ وَيَدْعُونَهَا الْوَصِيلَةَ؛ حِينَ وَصَلَتْ إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى لَيْسَ بَيْنَهُمَا ذَكَرٌ. قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ: وَالْحَامُ: فَحْلُ الْإِبِلِ كَانَ يَضْرِبُ الضِّرَابَ الْمَعْدُودَ، فَإِذَا قَضَى ضِرَابَهُ دَعَوْهُ لِلطَّوَاغِيتِ وَأَعْفَوْهُ مِنَ الْحَمْلِ، فَلَمْ يَحْمِلُوا عَلَيْهِ شَيْئًا، وَسَمَّوْهُ الْحَامَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) زہری کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے: «الْبَحِيرَةُ» ”بحیرہ“ وہ اونٹنی تھی جس کے دودھ کی ممانعت ہوتی تھی، وہ بتوں کے لیے وقف ہوتی تھی، اس لیے کوئی بھی اس کا دودھ نہ دوہتا تھا اور «السَّائِبَةُ» ”سائبہ“ اسے کہتے ہیں، جسے وہ اپنے بتوں کے لیے چھوڑ دیتے تھے اور اس پر کوئی بوجھ نہ لادتا تھا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے عمرو خزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا، یہی وہ پہلا شخص ہے جس نے سائبہ کی رسم نکالی۔“
(ب) ابن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں: «الْوَصِيلَةُ» ”وصیلہ“ اس جوان اونٹنی کو کہتے ہیں جو پہلی مرتبہ مادہ بچہ جنتی ہے اور دوسری مرتبہ بھی مادہ جنتی ہے، اسے بھی بتوں کے نام چھوڑ دیتے تھے، لیکن اسی صورت میں جبکہ وہ برابر دو مرتبہ مادہ بچہ جنے اور اس کے درمیان کوئی نر بچہ نہ ہو۔
(ج) ابن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں: «الْحَامُ» ”حام“ وہ نر اونٹ ہے جو مادہ پر کئی دفعہ چڑھتا ہے، اسے بھی بتوں کے لیے وقف کر دیتے اور بوجھ نہ لادتے تھے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے عمرو خزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا، یہی وہ پہلا شخص ہے جس نے سائبہ کی رسم نکالی۔“
(ب) ابن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں: «الْوَصِيلَةُ» ”وصیلہ“ اس جوان اونٹنی کو کہتے ہیں جو پہلی مرتبہ مادہ بچہ جنتی ہے اور دوسری مرتبہ بھی مادہ جنتی ہے، اسے بھی بتوں کے نام چھوڑ دیتے تھے، لیکن اسی صورت میں جبکہ وہ برابر دو مرتبہ مادہ بچہ جنے اور اس کے درمیان کوئی نر بچہ نہ ہو۔
(ج) ابن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں: «الْحَامُ» ”حام“ وہ نر اونٹ ہے جو مادہ پر کئی دفعہ چڑھتا ہے، اسے بھی بتوں کے لیے وقف کر دیتے اور بوجھ نہ لادتے تھے۔