کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مال، حقوق طلب کرنے اور ان کی ادائیگی، ہدی (قربانی کے جانور) ذبح کرنے اور انہیں تقسیم کرنے، خرید و فروخت، خرچ کرنے اور دیگر امور میں کسی کو وکیل (نمائندہ) مقرر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11432
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ قَالَ: أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ، فَقَالَ " إِذَا أَتَيْتَ وَكِيلِي فَخُذْ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَسْقًا؛ فَإِنِ ابْتَغَى مِنْكَ آيَةً فَضَعْ يَدَكَ عَلَى تَرْقُوَتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے خیبر کی طرف جانے کا ارادہ کیا، میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور میں نے سلام کہا اور کہا کہ میں خیبر کی طرف جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو میرے وکیل کے پاس جائے تو اس سے پندرہ وسق کھجور لے لینا۔ پس اگر وہ تجھ سے کوئی نشانی مانگے تو اپنا ہاتھ اس کے گلے پر رکھ دینا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوكالة / حدیث: 11432
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابو داؤد 3632»
حدیث نمبر: 11433
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرَقِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُمْتُ عَلَى الْبُدْنِ فَأَمَرَنِي فَقَسَمْتُ لُحُومَهَا، ثُمَّ أَمَرَنِي فَقَسَمْتُ جِلَالَهَا وَجُلُودَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ”میں قربانیوں پر کھڑا ہوں اور مجھے ان کا گوشت تقسیم کرنے کا، ان کی جھول اور ان کا چمڑا تقسیم کرنے کا حکم دیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوكالة / حدیث: 11433
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 1940، مسلم 1317
تخریج حدیث «بخاري 1940، مسلم 1317»
حدیث نمبر: 11434
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْبُدْنِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ وَقَدْ رُوِّينَا فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي قِصَّةِ الرَّجُلِ الَّذِي تَقَاضَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنًّا كَانَتْ لَهُ عَلَيْهِ: " اشْتَرُوا لَهُ بَعِيرًا فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ "، وَفِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي قِصَّةِ بَيْعِ بَعِيرِهِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا بِلَالُ، اقْضِهِ وَزِدْهُ " فَأَعْطَاهُ أَرْبَعَةَ دَنَانِيرَ، وَزَادَهُ قِيرَاطًا.
حافظ ثناء اللہ
ایک روایت کے الفاظ ہیں: مجھے رسول اللہ ﷺ نے قربانیوں پر مقرر کیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت اس آدمی کے قصے میں ہے جس نے رسول اللہ ﷺ سے اونٹوں کا تقاضا کیا تھا جو آپ ﷺ پر تھے کہ ”اس کے لیے اونٹ خریدو اور اسے وہی دے دو۔“ ایک روایت کے الفاظ میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو دو اور زیادہ بھی دینا۔“ چنانچہ انہوں نے چار دینار اور ایک قیراط زائد دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوكالة / حدیث: 11434
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 11435
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ الْهَوْزَنِيُّ يَعْنِي أَبَا عَامِرٍ الْهَوْزَنِيَّ قَالَ: لَقِيتُ بِلَالًا مُؤَذِّنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَلَبَ، فَقُلْتُ: يَا بِلَالُ، حَدِّثْنِي كَيْفَ كَانَتْ نَفَقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا كَانَ لَهُ شَيْءٌ إِلَّا أَنَا الَّذِي كُنْتُ أَلِي ذَلِكَ مِنْهُ مُنْذُ بَعَثَهُ اللهُ إِلَى أَنْ تُوُفِّيَ، فَكَانَ إِذَا أَتَاهُ الْإِنْسَانُ الْمُسْلِمُ فَرَآهُ عَارِيًا يَأْمُرُنِي فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَقْرِضُ فَأَشْتَرِيَ الْبُرْدَةَ وَالشَّيْءَ فَأَكْسُوَهُ وَأُطْعِمَهُ، حَتَّى اعْتَرَضَنِي رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ: يَا بِلَالُ، إِنَّ عِنْدِي سَعَةً، فَلَا تَسْتَقْرِضْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا مِنِّي، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ تَوَضَّأْتُ ثُمَّ قُمْتُ لِأُؤَذِّنَ بِالصَّلَاةِ، فَإِذَا الْمُشْرِكُ فِي عِصَابَةٍ مِنَ التُّجَّارِ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: يَا حَبَشِيُّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا لَبَيَّهِ، فَتَجَهَّمَنِي وَقَالَ قَوْلًا غَلِيظًا، فَقَالَ: أَتَدْرِي كَمْ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الشَّهْرِ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَرِيبٌ، قَالَ: إِنَّمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ أَرْبَعُ لَيَالٍ، فَآخُذُكَ بِالَّذِي لِي عَلَيْكَ، فَإِنِّي لَمْ أُعْطِكَ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ مِنْ كَرَامَتِكَ، وَلَا مِنْ كَرَامَةِ صَاحِبِكَ، وَلَكِنْ أَعْطَيْتُكَ لِتَجِبَ لِي عَبْدًا؛ فَأَرُدُّكَ تَرْعَى الْغَنَمَ كَمَا كُنْتَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَأَخَذَ فِي نَفْسِي مَا يَأْخُذُ فِي أَنْفُسِ النَّاسِ، فَانْطَلَقْتُ ثُمَّ أَذَّنْتُ بِالصَّلَاةِ، حَتَّى إِذَا صَلَّيْتُ الْعَتَمَةَ رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ، فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ، فَأَذِنَ لِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، إِنَّ الْمُشْرِكَ الَّذِي ذَكَرْتُ لَكَ أَنِّي كُنْتُ أَتَدَيَّنُ مِنْهُ قَدْ قَالَ كَذَا وَكَذَا، وَلَيْسَ عِنْدَكَ مَا تَقْضِي عَنِّي، وَلَا عِنْدِي، وَهُوَ فَاضِحِي، فَأَذِنَ لِي أَنْ آتِيَ إِلَى بَعْضِ هَؤُلَاءِ الْأَحْيَاءِ الَّذِينَ قَدْ أَسْلَمُوا حَتَّى يَرْزُقَ اللهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَقْضِي عَنِّي، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ مَنْزِلِي، فَجَعَلْتُ سَيْفِي وَجِرَابِي وَرُمْحِي وَنَعْلِي عِنْدَ رَأْسِي وَاسْتَقْبَلْتُ بِوَجْهِيَ الْأُفُقَ، فَكُلَّمَا نِمْتُ انْتَبَهْتُ فَإِذَا رَأَيْتُ عَلَيَّ لَيْلًا نِمْتُ، حَتَّى انْشَقَّ عَمُودُ الصُّبْحِ الْأَوَّلِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْطَلِقَ، فَإِذَا إِنْسَانٌ يَسْعَى يَدْعُو: يَا بِلَالُ، أَجِبْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ، فَإِذَا أَرْبَعُ رَكَائِبَ عَلَيْهِنَّ أَحْمَالُهُنَّ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنْتُ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْشِرْ؛ فَقَدْ جَاءَكَ اللهُ بِقَضَائِكَ "، فَحَمِدْتُ اللهَ، وَقَالَ: " أَلَمْ تَمُرَّ عَلَى الرَّكَائِبِ الْمُنَاخَاتِ الْأَرْبَعِ؟ " قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: " فَإِنَّ لَكَ رِقَابَهُنَّ وَمَا عَلَيْهِنَّ "، وَإِذَا عَلَيْهِنَّ كِسْوَةٌ وَطَعَامٌ أَهْدَاهُنَّ لَهُ عَظِيمُ فَدَكٍ، " فَاقْبِضْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اقْضِ دَيْنَكَ "، قَالَ: فَفَعَلْتُ فَحَطَطْتُ عَنْهُنَّ أَحْمَالَهُنَّ ثُمَّ عَقَلْتُهُنَّ ثُمَّ عَمَدْتُ إِلَى تَأْذِينِ صَلَاةِ الصُّبْحِ، حَتَّى إِذَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجْتُ إِلَى الْبَقِيعِ فَجَعَلْتُ أُصْبُعِي فِي أُذُنِي، فَنَادَيْتُ وَقُلْتُ: مَنْ كَانَ يَطْلُبُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنًا فَلْيَحْضُرْ، فَمَا زِلْتُ أَبِيعُ وَأَقْضِي وَأَعْرِضُ وَأَقْضِي حَتَّى لَمْ يَبْقَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ فِي الْأَرْضِ، حَتَّى فَضُلَ عِنْدِي أُوقِيَّتَانِ أَوْ أُوقِيَّةٌ وَنِصْفٌ، ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَقَدْ ذَهَبَ عَامَّةُ النَّهَارِ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فِي الْمَسْجِدِ وَحْدَهُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لِي: " مَا فَعَلَ مَا قِبَلَكَ؟ " قَالَ: قُلْتُ: قَدْ قَضَى اللهُ كُلَّ شَيْءٍ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَبْقَ شَيْءٌ، فَقَالَ: " فَضُلَ شَيْءٌ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ دِينَارَانِ، قَالَ: " ⦗١٣٤⦘ انْظُرْ أَنْ تُرِيحَنِي مِنْهُمَا، فَلَسْتُ بِدَاخِلٍ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِي حَتَّى تُرِيحَنِي مِنْهُمَا "، فَلَمْ يَأْتِنَا، فَبَاتَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَصْبَحَ، وَظَلَّ فِي الْمَسْجِدِ الْيَوْمَ الثَّانِي حَتَّى كَانَ فِي آخِرِ النَّهَارِ جَاءَ رَاكِبَانِ فَانْطَلَقْتُ بِهِمَا فَكَسَوْتُهُمَا وَأَطْعَمْتُهُمَا، حَتَّى إِذَا صَلَّى الْعَتَمَةَ دَعَانِي فَقَالَ: " مَا فَعَلَ الَّذِي قِبَلَكَ؟ " قُلْتُ: قَدْ أَرَاحَكَ اللهُ مِنْهُ، فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللهَ شَفَقًا مِنْ أَنْ يُدْرِكَهُ الْمَوْتُ وَعِنْدَهُ ذَلِكَ، ثُمَّ اتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَاءَ أَزْوَاجَهُ فَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ امْرَأَةٍ حَتَّى أَتَى فِي مَبِيتِهِ، فَهَذَا الَّذِي سَأَلْتَنِي عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو عامر عبداللہ ہوزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے مؤذن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حلب مقام پر ملا، میں نے کہا: اے بلال! ہمیں رسول اللہ ﷺ کے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے بارے میں آگاہ کرو، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے: جب سے اللہ نے آپ ﷺ کو مبعوث کیا، اس وقت سے وفات تک آپ ﷺ کی کوئی چیز ایسی نہیں جس کا میں والی نہ بنا ہوں، جب آپ ﷺ کے پاس کوئی مسلمان آتا اور آپ ﷺ اسے ننگا دیکھ لیتے تو آپ ﷺ مجھے حکم دیتے، میں جاتا اور قرض لے کر چادر خرید کر لاتا یا کوئی چیز اور میں اسے پہنا دیتا اور اسے کھلاتا، یہاں تک کہ مشرکین کے ایک آدمی نے مجھ پر اعتراض کیا اور کہا: اے بلال! بے شک میں اتنی وسعت والا ہوں، میرے علاوہ کسی اور سے قرض نہ لینا، چنانچہ میں نے اس سے قرض لینا شروع کر دیا، ایک دن میں نے وضو کیا، نماز کے لیے اذان کہنے لگا تو وہ مشرک آدمی تاجروں کی ایک جماعت میں سے نمودار ہوا، مجھے دیکھا تو کہنے لگا: اے حبشی! میں نے ہاں کہا تو وہ مجھ پر متوجہ ہوا اور سخت باتیں کرنے لگا، کہنے لگا: کیا تجھے پتا ہے تیرے مہینے کے وعدے میں کتنے دن رہ گئے ہیں؟ میں نے کہا: وعدہ قریب ہے، اس نے کہا: چار راتیں رہ گئی ہیں، میں تجھ سے اپنا قرض لے لوں گا، پھر میں تجھے وہ نہیں دوں گا جو میں تیری یا تیرے صاحب (محمد ﷺ) کی عزت میں دیتا تھا بلکہ اس لیے دوں گا تاکہ تو میرا غلام بن جائے، پھر میں تجھے بکریاں چرانے پر لوٹا دوں گا، جس طرح تو پہلے تھا، اس نے مجھ پر دباؤ ڈالا جس طرح وہ دوسرے لوگوں پر دباؤ ڈالتا تھا، میں چلا میں نے نماز کے لیے اذان کہی یہاں تک کہ میں نے عشاء کی نماز پڑھی، نبی ﷺ اپنے گھر لوٹ آئے، میں نے آپ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت مانگی، مجھے اجازت ملی، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، بے شک وہ مشرک آدمی جس کا میں نے آپ کو بتایا تھا جس سے میں قرض لیتا تھا اس نے اس اس طرح کہا ہے، آپ ﷺ کے پاس بھی قرض دینے کے لیے کچھ نہیں اور نہ میرے پاس کوئی چیز ہے اور وہ مجھے ملامت کر رہا تھا، مجھے اجازت دیں میں ان قبیلوں کے پاس جاؤں جنہوں نے اسلام قبول کیا ہے یہاں تک کہ اللہ اپنے رسول ﷺ کو رزق دے جس سے وہ میرا قرض اتاریں، میں نکلا اپنے گھر آیا میں نے اپنی تلوار، موزہ، نیزہ اور جوتا اپنے سر پر رکھا اور اپنے آپ کو ایک کونے کی طرف متوجہ کیا، جب مجھے نیند آنے لگتی تو میں چونک جاتا، جب میں نے رات محسوس کی تو سو گیا یہاں تک کہ صبح کی روشنی پھوٹی، میں نے جانے کا ارادہ کیا پس ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور وہ پکار رہا تھا: اے بلال! تجھے رسول اللہ ﷺ نے بلایا ہے، میں آپ ﷺ کے پاس آیا تو دیکھا کہ چار جانور لدے ہوئے بیٹھے ہوئے ہیں، میں نے اندر داخل ہونے کی اجازت لی آپ ﷺ نے فرمایا: ”خوش ہو جا اے بلال! اللہ نے تیرے قرضے کو ادا کرنے کے لیے مال بھیجا ہے۔“ بعد میں فرمایا: ”کیا تو نے وہ چار جانور لدے ہوئے نہیں دیکھے؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جا وہ جانور بھی تو لے لے اور ان پر لدا ہوا سامان بھی، ان پر کپڑا اور غلہ لدا ہوا ہے، یہ مجھے فدک کے رئیس نے بھیجا ہے، ان کو لے جا اور اپنا قرض ادا کر۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ایسا ہی کیا، میں نے ان کا سامان اتارا اور سمجھ کے ساتھ اس کو ادا کیا، پھر میں نے صبح کی اذان کا ارادہ کیا، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی، میں بقیع کی طرف گیا، میں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالیں، میں نے پکارا اور میں نے کہا: جس نے بھی رسول اللہ ﷺ سے قرض لینا ہے وہ آ جائے، پھر میں بیچتا رہا اور قرض ادا کرتا رہا اور پیش کرتا رہا اور قرض بھی ادا کرتا رہا حتیٰ کہ زمین پر رسول اللہ ﷺ پر کوئی قرض نہ رہا، یہاں تک کہ دو یا ڈیڑھ اوقیہ بچ گیا، پھر میں مسجد میں گیا اور دن کا اکثر حصہ بیت چکا تھا، رسول اللہ ﷺ اکیلے ہی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، میں نے سلام کہا، آپ ﷺ نے مجھے کہا: ”اس مال کا تجھے کیا فائدہ ہوا؟“ میں نے کہا: اللہ نے ہر چیز ادا کر دی ہے جو اس کے رسول پر تھی، آپ پر باقی کچھ نہیں بچا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس مال سے کچھ بچا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں دو دینار، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جلدی اسے خرچ کر دے اور مجھے بے فکر کر، میں اس وقت تک گھر داخل نہیں ہوں گا جب تک تو مجھے بے فکر نہ کر دے گا۔“ پس ہمارے پاس کوئی بھی سائل نہ آیا، رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں ہی رات گزاری یہاں تک کہ صبح ہو گئی، آپ ﷺ دوسرے دن بھی مسجد میں رہے حتیٰ کہ دن کے آخری حصے میں دو سوار آئے، میں ان کے پاس گیا، میں نے ان کو پہنا دیا اور کھلا دیا، جب عشاء کی نماز پڑھی تو آپ ﷺ نے مجھے بلایا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس مال کا کیا بنا؟“ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بے فکر کر دیا ہے، پس آپ ﷺ نے تکبیر کہی اور اللہ کی حمد بیان کی، آپ ﷺ کو ڈر تھا کہ کہیں وہ مال میرے پاس ہو اور موت نہ آ جائے، پھر میں آپ ﷺ کے پیچھے ہوا، آپ ﷺ اپنی بیویوں کے پاس آئے، ایک ایک کو سلام کہا، یہاں تک کہ سونے والی جگہ پر تشریف لائے، یہی تھا وہ جس کے بارے میں تو نے مجھ سے سوال کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوكالة / حدیث: 11435
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»