کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے کا بیان
حدیث نمبر: 7215
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ الَبَيْرُوتِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ جَابِرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ، أنبأ جَدِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، وَدَاوُدُ بْنُ مِخْرَاقٍ الْفَارَيَابِيُّ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ ⦗١٣٤⦘ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا " لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ إِلَّا أَنَّ فِي رِوَايَةِ ابْنِ مَزْيَدَ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ. وَرَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنِ ابْنِ جَابِرٍ عَنْ بُسْرٍ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ وَاثِلَةَ، وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ، وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عُمَرَ فِي كَرَاهِيَةِ ذَلِكَ وَالتَّشْدِيدِ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ہی ادھر منہ کر کے نماز ادا کرو۔“
ان دونوں احادیث کے الفاظ برابر ہیں سوائے ابن مزید کی روایت کے جو واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے نقل ہوئی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7215
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مسلم»
حدیث نمبر: 7216
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ النَّحْوِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ شُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ نَهِيكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي بَشِيرٌ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ اسْمُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ زَحْمَ بْنَ مَعْبَدٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا اسْمُكَ "؟ قَالَ زَحْمُ بْنُ مَعْبَدٍ، قَالَ: " أَنْتَ بَشِيرٌ " فَكَانَ اسْمَهُ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُمَاشِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ مَا أَصْبَحْتَ تَنْقِمُ عَلَى اللهِ تُمَاشِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَقُلْتُ مَا أَنْقِمُ عَلَى اللهِ شَيْئًا كُلُّ خَيْرٍ فَعَلَ بِيَ اللهُ، فَأَتَى عَلَى قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: " لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ بِخَيْرٍ كَثِيرٍ ثَلَاثَ مِرَارٍ " ثُمَّ أَتَى عَلَى قُبُورِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ: لَقَدْ أَدْرَكَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا ثَلَاثَ مِرَارٍ " فَبَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي إِذْ حَانَتْ مِنْهُ نَظْرَةٌ فَإِذَا رَجُلٌ يَمْشِي بَيْنَ الْقُبُورِ عَلَيْهِ نَعْلَانِ فَقَالَ: " يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ وَيْحَكَ أَلْقِ سِبْتِيَّتَيْكَ " فَنَظَرَ فَلَمَّا عَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَعَ نَعْلَيْهِ. فَرَمَى بِهِمَا هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ وَلَا يُعْرَفُ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
حافظ ثناء اللہ
بشیر بن نہیک بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے صحابی بشیر رضی اللہ عنہ نے (جس کا جاہلیت کا نام زحم بن معبد تھا) حدیث بیان کی کہ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: ”تیرا نام کیا ہے؟“ اس نے عرض کیا: زحم بن معبد۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تو بشیر ہے۔“ تو ان کا نام یہی ٹھہرا۔ وہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن خصاصیہ! تو نے اس حال میں صبح کی ہے کہ تو اللہ سے شکوہ کر رہا ہے حالانکہ تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا ہے۔“ میں نے عرض کیا: میں اللہ تعالیٰ سے کوئی شکوہ نہیں کر رہا، میرے ساتھ میرے اللہ نے سب بھلا ہی کیا ہے۔ پھر آپ ﷺ مشرکین کے قبرستان آئے اور فرمایا: ”یہ لوگ ایسے ہیں جن سے بہت سی خیر سبقت لے جا چکی ہے۔“ یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ دہرائی، پھر آپ ﷺ مسلمانوں کی قبروں کے پاس آئے اور فرمایا: ”انہوں نے بہت زیادہ بھلائی حاصل کر لی ہے۔“ تین بار آپ ﷺ نے یہی فرمایا اور آپ ﷺ ایسے ہی چلتے رہے کہ ایک ایسے شخص پر نظر پڑی جو قبرستان کے درمیان چل رہا تھا اور اس نے جوتے پہنے ہوئے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے جوتوں والے! اپنے جوتے اتار دے۔“ جب اس نے دیکھا کہ آپ تو اللہ کے رسول ﷺ ہیں تو اس نے جوتے اتار کر پھینک دیے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7216
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد»
حدیث نمبر: 7217
وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ يَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيَقُولَانِ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ يَعْنِي مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ آمَنْتُ أَنَّهُ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ فِي النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللهُ مَقْعَدًا فِي الْجَنَّةِ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا "، ⦗١٣٥⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ زُرَارَةَ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى بِنَعْلَيْهِ قَذَرًا فَأَمَرَهُ أَنْ يَخْلَعَهُمَا لِأَجْلِ ذَلِكَ وَيُحْتَمَلُ غَيْرُ ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”بیشک بندہ جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس پلٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا لیتے ہیں اور کہتے ہیں: تو اس آدمی کے بارے کیا کہتا ہے، یعنی (محمد ﷺ) کے بارے میں۔ انہوں نے کہا: اگر وہ مومن ہے تو کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کا بندہ اور رسول ہے تو اسے کہا جاتا ہے تو اپنا ٹھکانا دوزخ میں دیکھ لے، مگر اللہ نے تیرا ٹھکانا جنت میں تبدیل کر دیا ہے تو وہ ان دونوں کو دیکھتا ہے۔“
اس بات کا بھی احتمال ہے کہ آپ ﷺ نے جوتوں میں گندگی دیکھی ہو اور اسی وجہ سے ان کے اتارنے کا حکم دیا اور اس کے علاوہ کا بھی احتمال ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7217
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»