کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: زمانہ جاہلیت کی پکار لگانے، رخسار پیٹنے، گریبان چاک کرنے، بال بکھیرنے، سر منڈوانے، کپڑے پھاڑنے اور چہرہ نوچنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 7115
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ہم میں سے نہیں جس نے گال پیٹے اور گریبان چاک کیا اور جاہلیت کی سی پکار کی۔“
حدیث نمبر: 7116
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو ذَرِّ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ الْمُذَكِّرِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بُنْدَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ وَحْدَهُ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
مسروق، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے ایسی ہی حدیث روایت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 7117
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ". لفْظُهُمَا سَوَاءٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ہم میں سے نہیں جس نے گالوں پر تھپڑ مارے اور گریبان چاک کیا اور جاہلیت کی سی پکار کی۔“
حدیث نمبر: 7118
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ، يَذْكُرُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَا: أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ، قَالَ: ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنِّي بَرِئٌ مِمَّنْ حَلَقَ وَسَلَقَ وَخَرَقَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ وَغَيْرِهِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن یزید اور ابو بردہ بن ابو موسیٰ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ پر غشی طاری ہوئی تو ان کے پاس ایک عورت آئی جو رونے کے ساتھ چیخ رہی تھی۔ وہ دونوں کہتے ہیں: پھر جب انہیں افاقہ ہوا تو انہوں نے اس سے کہا: کیا تو جانتی نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”جس نے گریبان چاک کیا، کپڑے پھاڑے اور سینہ کوبی کی تو میں اس سے لاتعلق ہوں۔“
حدیث نمبر: 7119
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ، حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى، قَالَ: وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ، وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ فَصَاحَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِهِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ " أَنَا بَرِئٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَرِئٌ مِنَ السَّالِقَةِ وَالْحَالِقَةِ وَالشَّاقَّةِ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ: وَقَالَ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى.
حافظ ثناء اللہ
ابو بردہ بن ابو موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے اور ان پر غشی طاری ہوگئی اور ان کا سر ان کے اہل کی ایک عورت کی گود میں تھا تو وہ چیخ پڑی، وہ اسے لوٹانے کی یعنی (خاموش کروانے) استطاعت نہیں رکھتے تھے، جب انہیں افاقہ ہوا تو بولے: میں اس سے بری ہوں جس سے رسول اللہ ﷺ نے براءت کا اظہار کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں سینہ کوبی کرنے والیوں، کپڑے پھاڑنے والیوں اور بال نوچنے والیوں سے بری ہوں۔“
حدیث نمبر: 7120
حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، وَقِرَاءَةً عَلَيْهِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ الْقَطَّانُ سَنَةَ إِحْدَى وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَبَكَتْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ ابْنَةُ أَبِي مُرَّةَ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ: " أَبْرَأُ إِلَيْكِ مِمَّا بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ حَلَقَ وَسَلَقَ وَخَرَقَ " ⦗١٠٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَسَنِ الْحُلْوَانِيِّ، عَنِ عَبْدِ الصَّمَدِ.
حافظ ثناء اللہ
ربعی بن حراش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ پر بے ہوشی طاری ہوئی تو ان کی بیوی بنتِ ابو مرہ روئیں، جب انہیں افاقہ ہوا تو انہوں نے کہا: میں تم سے اس چیز کی برأت کا اظہار کرتا ہوں جس سے رسول اللہ ﷺ نے کیا، یعنی اس سے جس نے ”سینہ کوبی کی، بال نوچے اور کپڑے پھاڑے۔“
حدیث نمبر: 7121
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ثنا الْحَجَّاجُ، عَامِلُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَلَى الرَّبَذَةِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ، عَنِ امْرَأَةٍ، مِنَ الْمُبَايِعَاتِ، قَالَتْ: كَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَعْرُوفِ الَّذِي أَخَذَ عَلَيْنَا: أَنْ لَا نَعْصِيَهُ فِيهِ أَنْ لَا نَخْمِشَ وَجْهًا وَلَا نَدْعُوَ وَيْلًا وَلَا نَشُقَّ جَيْبًا وَلَا نَنْشُرَ شَعْرًا ".
حافظ ثناء اللہ
اسید بن ابواسید رحمہ اللہ بیعت کرنے والی عورتوں رضی اللہ عنہن سے نقل فرماتے ہیں کہ جس بات پر آپ ﷺ نے ہم سے بیعت لی وہ معروف تھی جس نے ہم پر لازم کر دیا کہ ”ہم آپ ﷺ کی نافرمانی نہ کریں، چہرہ نہ نوچیں اور نہ جاہلیت جیسی پکار کریں اور نہ ہی گریبان چاک کریں اور نہ بال بکھیریں۔“
حدیث نمبر: 7122
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَعَلَتْ أُخْتُهُ تَبْكِي عَلَيْهِ وَتَقُولُ: وَاجَبَلَاهُ، وَتُعَدِّدُ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ: " مَا قُلْتِ لِي شَيْئًا إِلَّا وَقَدْ قِيلَ لِي: أَنْتَ كَذَلِكَ؟ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ. وَرَوَاهُ عَبْثَرٌ عَنْ حُصَيْنٍ وَزَادَ فِيهِ فَلَمَّا مَاتَ لَمْ تَبْكِ عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر غشی طاری ہوئی تو ان کی بہن نے رونا شروع کر دیا اور وہ کہہ رہی تھیں: ہائے میرے پہاڑ (جیسے)! اور وہ ایسی باتیں گن رہی تھیں، جب وہ ہوش میں آئے تو انہوں نے کہا: تم نے میرے بارے میں جو بھی بات کہی (اس پر) مجھ سے کہا گیا: کیا تم واقعی ایسے ہی ہو؟
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں عمران بن میسرہ رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے، وہ ابن فضیل رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں اور عبثر رحمہ اللہ نے حصین رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے اور یہ اضافہ کیا ہے کہ جب وہ فوت ہوئے تو وہ (ان کی بہن) ان پر نہیں روئیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں عمران بن میسرہ رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے، وہ ابن فضیل رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں اور عبثر رحمہ اللہ نے حصین رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے اور یہ اضافہ کیا ہے کہ جب وہ فوت ہوئے تو وہ (ان کی بہن) ان پر نہیں روئیں۔
حدیث نمبر: 7123
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَاذَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى أَنْ تُتْبَعَ جِنَازَةٌ مَعَهَا رَنَّةٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا کہ ”جنازے کے پیچھے ایسی عورتوں کو لگایا جائے جن کے رونے کی آواز ہو۔“