حدیث نمبر: 7104
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَرَأَ عَلَيْنَا {أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا} [الممتحنة: ١٢] وَنَهَانَا عَنِ النِّيَاحَةِ فَقَبَضَتِ امْرَأَةٌ يَدَهَا، قَالَتْ: أَسْعَدَتْنِي فُلَانَةٌ أُرِيدُ أَنْ أَجْزِيَهَا، فَمَا قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَانْطَلَقَتْ فَرَجَعَتْ فَبَايَعَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ بِهَذَا اللَّفْظِ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے آپ ﷺ کی بیعت کی تو آپ ﷺ نے ہم پر یہ آیت پڑھی: ﴿أَن لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا﴾ [سورة الممتحنة: 12] اور ہمیں نوحہ کرنے سے منع کیا، تو ایک عورت نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور کہا: ”فلاں عورت نے میرے ساتھ نیکی کی ہے، میں چاہتی ہوں کہ اسے بدلہ دوں۔“ تو آپ ﷺ نے اسے کچھ بھی نہ کہا، سو وہ چلی گئی، پھر آئی اور اس نے بیعت کی۔
حدیث نمبر: 7105
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا تُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا " وَنَهَانَا عَنِ النِّيَاحَةِ فَقَبَضَتِ امْرَأَةٌ يَدَهَا فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فُلَانَةً أَسْعَدَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَجْزِيَهَا فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا فَذَهَبَتْ، ثُمَّ رَجَعَتْ يَعْنِي فَبَايَعَهَا قَالَتْ: فَمَا وَفَّتْ مِنَّا امْرَأَةٌ إِلَّا أُمُّ سُلَيْمٍ، وَأُمُّ الْعَلَاءِ، وَابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ امْرَأَةُ مُعَاذٍ أَوِ ابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ، وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ. ⦗١٠٣⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ هَكَذَا وَلَيْسَ فِيهِ أَنَّهُ اسْتَثْنَى لَهَا مَا أَرَادَتْ بَلْ فِيهِ أَنَّهُ لَمْ يُجِبْهَا إِلَى ذَلِكَ حَتَّى رَجَعَتْ فَبَايَعَهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”«لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا»“ اور آپ ﷺ نے ہمیں نوحہ کرنے سے منع کیا تو ایک عورت نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا اور وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول ﷺ! فلاں عورت نے میرے ساتھ بھلائی کی سو میں اسے بدلہ دینا چاہتی ہوں، تو آپ ﷺ نے اسے کچھ بھی نہ کہا، وہ چلی گئی، پھر وہ واپس آئی اور بیعت کی۔ فرماتی ہیں: ہم میں سے ام سلیم رضی اللہ عنہا، ام علاء رضی اللہ عنہا اور ابی سبرہ کی بیٹی معاذ کی بیوی یا فرمایا: ابی سبرہ کی بیٹی اور معاذ کی بیوی نے اس عہد کو پورا کیا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں مسدد سے اسی طرح نقل کیا ہے، اس میں یہ نہیں کہ اس نے اس کا استثناء کیا جو اس کا ارادہ تھا، بلکہ اس میں یہ ہے کہ انہوں نے جواب نہ دیا حتیٰ کہ واپس پلٹیں اور بیعت۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں مسدد سے اسی طرح نقل کیا ہے، اس میں یہ نہیں کہ اس نے اس کا استثناء کیا جو اس کا ارادہ تھا، بلکہ اس میں یہ ہے کہ انہوں نے جواب نہ دیا حتیٰ کہ واپس پلٹیں اور بیعت۔
حدیث نمبر: 7106
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا عَاصِمٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ {إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا} [الممتحنة: ١٢] إِلَى قَوْلِهِ {وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ} [الممتحنة: ١٢] قَالَتْ: مِنْهَا النِّيَاحَةُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ: إِلَّا بَنِي فُلَانٍ؛ فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَا بُدَّ مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ فَقَالَ: " إِلَّا بَنِي فُلَانٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ. كَذَلِكَ رَوَاهُ عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلُ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ. وَلَا أَدْرِي هَلْ حَفِظَ مَا رُوِيَ فِيهِ مِنَ الْإِذْنِ فِي الْإِسْعَادِ أَمْ لَا. فَقَدْ رَوَاهُ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَهُوَ أَحْفَظُ مِنْهُ عَلَى مَا ذَكَرْنَا وَرَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ حَفْصَةَ فَلَمْ يَذْكُرْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب یہ آیت ﴿یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤی اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْـًٔا﴾ سے لے کر ﴿وَلَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ﴾ [سورة الممتحنة: 12] تک نازل ہوئی تو ان میں نوحہ کرنے کی عادت تھی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مگر فلاں کی اولاد کے لیے! انہوں نے دورِ جاہلیت میں میرے ساتھ نیکی کی، سو ان سے بھلائی کیے بغیر مجھے کوئی چارہ نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سوائے فلاں کی اولاد کے لیے۔“
حدیث نمبر: 7107
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْبَيْعَةِ أَنْ لَا نَنُوحَ فَمَا وَفَّتْ مِنَّا امْرَأَةٌ إِلَّا خَمْسُ نِسْوَةٍ أُمُّ سُلَيْمٍ، وَأُمُّ الْعَلَاءِ، وَابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ امْرَأَةُ مُعَاذٍ، أَوِ ابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ، وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَجَبِيِّ عَنْ حَمَّادٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: وَامْرَأَتَانِ أَوِ امْرَأَةٌ أُخْرَى، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ. وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَيْضًا مَا فِي رِوَايَةِ عَاصِمٍ عَنْ حَفْصَةَ مِنَ الِاسْتِثْنَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے بیعت کے دوران اس بات کا بھی عہد لیا کہ ”ہم نوحہ نہ کریں گی،“ سو اس عہد کو ہم میں سے پانچ عورتوں: ام سلیم، ام علاء، ابی سبرہ کی بیٹی، معاذ کی بیوی یا فرمایا: ابو سبرہ کی بیٹی اور معاذ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے پورا کیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں حجبی سے نقل کیا ہے اور انہوں نے حماد سے اور اس حدیث میں فرمایا: دو عورتیں یا ایک دوسری عورت نے پورا کیا۔
حدیث نمبر: 7108
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ أَحْمَدَ الزُّوزَنِيُّ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ حِينَ بَايَعَهُنَّ أَنْ لَا يَنُحْنَ، فَقُلْنَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ نِسَاءً أَسْعَدْنَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَفَنُسْعِدُهُنَّ فِي الْإِسْلَامِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا إِسْعَادَ فِي الْإِسْلَامِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے جب عورتوں سے بیعت لی تو اس میں یہ عہد بھی لیا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بے شک دور جاہلیت میں عورتیں ان مصائب میں ساتھ دیتی تھیں، کیا ہم اسلام میں ان کا ساتھ دیں؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں یہ ساتھ نوحہ نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 7109
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، ⦗١٠٤⦘ أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ. قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قُلْتُ: غَرِيبٌ وَفِي أَرْضِ غُرْبَةٍ لَأَبْكِيَنَّ عَلَيْهِ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ بِهِ، قَالَتْ: فَلَمَّا تَهَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ عَلَيْهِ إِذَا امْرَأَةٌ تُرِيدُ أَنْ تَأْتِيَنِي فَاسْتَقْبَلَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا قَدْ أَخْرَجَهُ اللهُ مِنْهُ ". قَالَتْ: فَكَفَفْتُ عَنِ الْبُكَاءِ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ اللهِ: لَأَبْكِيَنَّ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ عَنْهُ فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ قَدْ تَهَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ عَلَيْهِ إِذْ أَتَتِ امْرَأَةٌ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي مِنَ الصَّعِيدِ فَاسْتَقْبَلَهَا فَذَكَرَهُ. قَالَتْ: فَكَفَفْتُ عَنِ الْبُكَاءِ فَلَمْ أبْكِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ. وَهَذَا فِي بُكَاءٍ يَكُونُ مَعَهُ نَدْبٌ أَوْ نِيَاحَةٌ وَهَكَذَا مَا رُوِّينَا فِيمَا مَضَى عَنْ عَائِشَةَ مَنْ بُكَاءِ نِسَاءِ جَعْفَرٍ عَلَيْهِ وَنَهْيُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے کہا: وہ غریب الوطن ہے، میں ضرور اس پر اتنا روؤں گی کہ لوگ اسے بیان کریں گے۔ سو جب میں نے ان پر رونے کی تیاری کر لی تو ایک عورت آئی جو میرے ساتھ شامل ہونا چاہتی تھی تو نبی کریم ﷺ اس کے سامنے آئے اور فرمایا: ”کیا تو چاہتی ہے کہ اپنے گھر میں شیطان داخل کرے جب کہ اللہ نے اسے نکال دیا ہے؟“ وہ فرماتی ہیں: میں رونے سے باز آگئی اور ابو عبداللہ کی روایت میں ہے کہ میں اس پر ایسا روؤں گی کہ لوگ اس کی باتیں کریں گے، ہم اسی حالت میں رونے کی تیاری کر رہے تھے جب کہ ایک عورت آئی جو ہم میں شامل ہونا چاہتی تھی تو نبی کریم ﷺ اس کے سامنے آئے اور اس بات کا تذکرہ کیا۔ فرماتی ہیں: پھر میں رونے سے باز آگئی۔
اسے مسلم نے اپنی صحیح میں اسحاق بن ابراہیم سے بیان کیا کہ یہ رونے کا حکم ہے جس میں نوحہ شامل ہو۔ ایسے ہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے جعفر رضی اللہ عنہ کی عورتوں کے رونے کے بارے میں اور رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع کیا ہے۔
اسے مسلم نے اپنی صحیح میں اسحاق بن ابراہیم سے بیان کیا کہ یہ رونے کا حکم ہے جس میں نوحہ شامل ہو۔ ایسے ہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے جعفر رضی اللہ عنہ کی عورتوں کے رونے کے بارے میں اور رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع کیا ہے۔