کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے مردوں کو ایک زمین (علاقے) سے دوسری زمین میں منتقل کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ حُمِلَ الْقَتْلَى لِيُدْفَنُوا بِالْبَقِيعِ فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَدْفِنُوا الْقَتْلَى فِي مَضَاجِعِهِمْ بَعْدَمَا حَمَلَتْ أُمِّي أَبِي وَخَالِي عَدِيلَيْنِ لِتَدْفِنَهُمْ فِي الْبَقِيعِ فَرُدُّوا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب احد کا دن ہوا تو مقتولین کو جنت البقیع میں دفن کے لیے اٹھایا گیا تو اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ”تمہیں حکم دیتے ہیں کہ مقتولین کو ان کی جگہ پر ہی دفن کرو۔“ یہ اعلان تب ہوا جب میری والدہ نے میرے والد اور میرے ماموں کو اٹھا لیا تھا تاکہ انہیں بقیع میں دفن کریں، پھر انہوں نے انہیں واپس لوٹایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ صُبَيْحٍ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ رُوَيْمٍ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هَلَكَ بِفَحْلٍ فَقَالَ: " ادْفِنُونِي خَلْفَ النَّهْرِ "، ثُمَّ قَالَ: " ادْفِنُونِي حَيْثُ قُبِضْتُ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن رویم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ فحل (کے مقام) پر فوت ہوئے، فرمانے لگے: مجھے نہر کے پیچھے دفن کرنا۔ پھر فرمایا: جہاں میں فوت ہو جاؤں وہیں دفن کر دینا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: مَاتَ أَخٌ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِوَادِي الْحَبَشَةِ فَحُمِلَ مِنْ مَكَانِهِ فَأَتَيْنَاهَا نُعَزِّيهَا فَقَالَتْ: " مَا أَجِدُ فِي نَفْسِي أَوْ يَحْزُنُنِي فِي نَفْسِي إِلَّا أَنِّي وَدِدْتُ أَنَّهُ كَانَ دُفِنَ فِي مَكَانِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
منصور بن صفیہ اپنی والدہ سے نقل کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی حبشی کی وادی میں وفات پا گئے، انھیں ان کی جگہ سے اٹھایا گیا، ہم ان کی تعزیت کے لیے آئے تو وہ کہنے لگیں: میں اپنے دل میں کچھ نہیں پاتی جو مجھے غمگین کرے مگر یہ کہ میں پسند کرتی تھی کہ انھیں اسی جگہ میں دفن کیا جاتا۔