کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا ہے کہ وہ اپنی دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرے گا
حدیث نمبر: 6988
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ الزُّوزَنِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، قَالَ: أَمَّنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى عَلَى جِنَازَةِ ابْنَتِهِ فَكَبَّرَ أَرْبَعًا، فَمَكَثَ سَاعَةً حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُكَبِّرُ خَمْسًا، ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْنَا لَهُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: " إِنِّي لَا أَزِيدُكُمْ عَلَى مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ "، أَوْ " هَكَذَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، ثُمَّ رَكِبَ دَابَّتَهَ، وَقَالَ لِلْغُلَامِ: " أَيْنَ أَنَا؟ " قَالَ: أَمَامَ الْجِنَازَةِ، قَالَ: " أَلَمْ أَنْهَكَ "، وَكَانَ قَدْ كُفَّ يَعْنِي بَصَرُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم ہجری فرماتے ہیں: ہم نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کو ان کی بیٹی کے جنازے میں امام بنایا تو انہوں نے چار تکبیرات کہیں، پھر تھوڑی دیر خاموش رہے۔ ہم نے سمجھا شاید پانچویں تکبیر کہیں گے، پھر انہوں نے دائیں بائیں سلام پھیرا، جب پھرے تو ہم نے کہا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں اس سے زیادہ نہیں کروں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے، آپ ﷺ ایسے ہی کیا کرتے تھے یا فرمایا: آپ ﷺ نے ایسے ہی کیا، پھر آپ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور غلام سے کہا: میں کہاں ہوں؟ تو اس نے کہا: جنازے کے آگے، تو انہوں نے کہا: کیا میں نے تجھے منع نہیں کیا تھا؟ اور وہ نابینا ہو چکے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6988
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 6989
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّازِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " ثَلَاثُ خِلَالٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُنَّ، تَرَكَهُنَّ النَّاسُ، إِحْدَاهُنَّ: التَّسْلِيمُ عَلَى الْجِنَازَةِ مِثْلُ التَّسْلِيمِ فِي الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ تین عمل کیا کرتے تھے مگر لوگوں نے انہیں ترک کر دیا ہے، ان میں سے ایک نماز کی طرح نمازِ جنازہ کا سلام پھیرنا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6989
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»