کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: چوتھی تکبیر اور سلام کے درمیان میت کے لیے دعائے مغفرت اور دعا کرنے کے بارے میں مروی روایات کا بیان
حدیث نمبر: 6981
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْهَجَرِيِّ يَعْنِي إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: مَاتَتِ ابْنَةٌ لَهُ فَخَرَجَ فِي جِنَازَتِهَا عَلَى بَغْلَةٍ خَلْفَ الْجِنَازَةِ، فَجَعَلَ النِّسَاءُ يَرْثِينَ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى: " لَا تَرْثِينَ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمَرَاثِي وَلَكِنْ لِتُفِضْ إِحْدَاكُنَّ مِنْ عَبْرَتِهَا مَا شَاءَتْ "، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا فَكَبَّرَ أَرْبَعًا، فَقَامَ بَعْدَ التَّكْبِيرَةِ الرَّابِعَةِ بِقَدْرِ مَا بَيْنَ التَّكْبِيرَتَيْنِ يَسْتَغْفِرُ لَهَا وَيَدْعُو، ثُمَّ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَكَذَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کی بیٹی فوت ہو گئی تو وہ اس کے جنازے میں ایک خچر پر نکلے، پیچھے پیچھے عورتوں نے مرثیہ کہنا شروع کر دیا تو سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما نے کہا: تم مرثیہ نہ کہو، رسول اللہ ﷺ نے ”مرثیہ کہنے سے منع کیا بلکہ تم میں سے جو چاہے اس کی تعریف کرے۔“ پھر انہوں نے اس کا جنازہ پڑھا اور اس میں چار تکبیرات کہیں اور چوتھی تکبیر کے بعد دو تکبیرات کے درمیان وقفے کے برابر رکے اور اس کے لیے دعا و استغفار کیا، پھر فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ ایسے ہی کیا کرتے تھے۔“