کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے جنازہ اٹھایا اور چارپائی کو اس کے آگے والے دو پایوں کے درمیان سے اپنی پشت پر رکھا
حدیث نمبر: 6835
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا نُوحُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ فِي جِنَازَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَائِمًا بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ وَاضِعًا السَّرِيرَ عَلَى كَاهِلِهِ " لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ وَحَدِيثُ الْعَسْقَلَانِيِّ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن سعد اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جنازے میں دیکھا کہ وہ سامنے والے دونوں بانسوں کے درمیان کھڑے تھے اور چارپائی کو اپنے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 6836
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ الثِّقَةُ مِنْ أَصْحَابِنَا، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَحْمِلُ بَيْنَ عَمُودَيْ سَرِيرِ أُمِّهِ فَلَمْ يُفَارِقْهُ حَتَّى وَضَعَهُ.
حافظ ثناء اللہ
عیسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ اپنی ماں کی چارپائی کے بانسوں کو اٹھائے ہوئے تھے اور وہ اس سے جدا نہ ہوئے حتیٰ کہ اسے رکھ دیا۔
حدیث نمبر: 6837
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أنبأ الشَّافِعِيُّ، ثنا بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ: أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي جِنَازَةِ رَافِعٍ قَائِمًا بَيْنَ قَائِمَتَيِ السَّرِيرِ.
حافظ ثناء اللہ
یوسف بن ماہک بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک جنازے میں دیکھا کہ وہ دونوں بانسوں کو اٹھائے ہوئے کھڑے تھے۔
حدیث نمبر: 6838
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَحْمِلُ بَيْنَ عَمُودَيْ سَرِيرِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی چارپائی کو دونوں بانسوں کے درمیان سے اٹھائے ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 6839
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَحْمِلُ بَيْنَ عَمُودَيْ سَرِيرِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
شرجیل بن ابی عون اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ سیدنا مسور بن محزمہ رضی اللہ عنہما کی چارپائی کو دونوں بانسوں کے درمیان سے اٹھائے ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 6840
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مَعْنٌ، ثنا هَارُونُ، مَوْلَى قُرَيْشٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ الْمُطَّلِبَ بَيْنَ عُمُودَيْ سَرِيرِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ "، قَالَ يَعْقُوبُ: كَانَ عِنْدَنَا خَارِجَةٌ، فَقَالَ هِشَامٌ جَابِرٌ.
حافظ ثناء اللہ
ہارون قریشی کا غلام کہتا ہے: میں نے مطلب کو جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی چارپائی کو اٹھائے دیکھا۔
حدیث نمبر: 6841
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، قَالَ: " شَهِدْتُ جِنَازَةَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَفِيهَا ابْنُ عُمَرَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ حَتَّى أَخَذَ بِمُقَدَّمِ السَّرِيرِ بَينَ الْقَائِمَتَيْنِ فَوَضَعَهُ عَلَى كَاهِلِهِ، ثُمَّ مَشَى بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
یوسف بن ماہک کہتے ہیں: میں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے جنازے میں حاضر ہوا اور ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اس میں تھے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما چلے حتیٰ کہ چارپائی کے سامنے والے بانسوں کو پکڑا اور اپنے کندھے پر رکھا اور چل دیے۔