کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بات کے دلائل کا بیان کہ میت کا کفن اور اس کی دیگر ضروریات دستور کے مطابق اس کے اصل مال سے پوری کی جائیں گی
حدیث نمبر: 6775
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللهِ أَمُوتُ حِينَ أَمُوتُ وَأَخْلُفُ عَشَرَةَ أَوَاقٍ إِلَّا فِي ثَمَنِ كَفَنٍ أَوْ قَضَاءِ دَيْنٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کروں اور جب میں نے فوت ہونا ہے فوت ہو جاؤں اور اس میں سے دس اوقیہ سونا بھی چھوڑ جاؤں سوائے کفن کی قیمت اور قرض کی ادائیگی کے۔“
حدیث نمبر: 6776
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نَبْتَغِي وَجْهَ اللهِ، فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى مِنْ قَبْلُ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا كَانَ مِنْهُمْ: مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَلَمْ يَتْرُكْ إِلَّا نَمِرَةً، فَكُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " غَطُّوا رَأْسَهُ وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الْإِذْخِرِ " وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی اور ہم اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے تھے تو ہمارا اجر اللہ تعالیٰ پر ثابت ہو گیا۔ سو ہم میں سے وہ بھی ہیں جو ہم سے پہلے فوت ہو گئے اور اس اجر میں سے کچھ نہ کھایا، ان میں سے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تھے جو غزوہ احد میں شہید ہوئے۔ انہوں نے کوئی ترکہ نہ چھوڑا سوائے ایک ٹاٹ (کمبل) کے۔ جب ہم اس سے ان کے سر کو ڈھانپتے تو پاؤں کھل جاتے اور جب پاؤں پر ڈالتے تو سر ننگا ہو جاتا۔ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا سر ڈھانپ دو اور اس کے پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو۔“ اور ہم میں سے وہ بھی ہیں جن کا پھل تیار ہو چکا اور وہ اسے توڑ رہا ہے۔
حدیث نمبر: 6777
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ زِيَادِ ابْنُ بِنْتِ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا جَدِّي، أنبأ أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أُتِيَ ابْنُ عَوْفٍ يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بِطَعَامٍ، فَقَالَ: " قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَكَانَ خَيْرًا مِنِّي، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ إِلَّا بُرْدَةٌ يُكَفَّنُ فِيهَا، وَقُتِلَ حَمْزَةُ "، أَوْ رَجُلٌ آخَرُ، " وَكَانَ خَيْرًا مِنِّي، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ إِلَّا بُرْدَةٌ يُكَفَّنُ فِيهَا، مَا أَظُنُّنَا إِلَّا قَدْ عُجِّلَتْ لَنَا حَسَنَاتُنَا فِي حَيَاتِنَا الدُّنْيَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن سعد اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عوف رضی اللہ عنہما کے پاس کھانا لایا گیا تو انہوں نے کہا: مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے مگر ان کے لیے کوئی چادر نہ ملی جس میں انہیں کفن دیا جاتا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے یا کوئی دوسرا، وہ بھی مجھ سے بہتر تھے، ان کے لیے صرف ایک چادر میسر آئی جس میں انہیں کفن دیا گیا۔ میں یہی خیال کرتا ہوں کہ ہماری نعمتیں ہمیں دنیا ہی کی زندگی میں جلد عطا کر دی گئی ہیں۔
حدیث نمبر: 6778
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنُ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " الْكَفَنُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کفن اصل مال میں سے ہونا چاہیے۔