کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جن چیزوں سے میت کو غسل دیا جائے اور اس کے غسل میں تکرار کے سنت ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6631
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ، فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ، بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي " قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ، فَقَالَ: " أَشْعِرْنَهَا ⦗٥٤٧⦘ إِيَّاهُ " تَعْنِي الْإِزَارَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ كِلَاهُمَا عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کی بیٹی فوت ہوئی تو آپ ﷺ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ”تین تین یا پانچ پانچ مرتبہ غسل دینا یا اس سے زیادہ اگر تم اس کی ضرورت محسوس کرو اور غسل دو پانی اور بیری کے پتوں سے اور آخر میں کافور لگانا یا کافور جیسی کوئی اور چیز اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے آگاہ کرنا۔“ وہ کہتی ہیں: جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ ﷺ کو اطلاع دی تو آپ ﷺ نے ہمیں «حِقْوَة» دی اور فرمایا: ”اس کی مینڈھیاں بھی کرنا۔“ «حِقْوَة» سے مراد چادر ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6631
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»
حدیث نمبر: 6632
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّهَا قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَانَا فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاغْسِلْنَهَا وِتْرًا: ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ". قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ: " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ ". قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: فَضَفَّرْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ، ثُمَّ أَلْقَيْنَا خَلْفَهَا مُقَدِّمَتَهَا وَقَرْنَيْهَا ". وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَا: أنبأ هِشَامٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، بِنَحْوِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ يَحْيَى، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ يَزِيدَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی ایک بیٹی فوت ہوگئی، سو آپ ﷺ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ”اسے غسل دینا پانی اور بیری کے ساتھ اور غسل دینا طاق عدد تین یا پانچ مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ، اگر تم اس کی ضرورت محسوس کرو اور اس کے آخر میں کافور یا کافور جیسی کوئی اور چیز لگانا اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتانا۔“ وہ کہتی ہیں: جب ہم فارغ ہوگئیں تو ہم نے آپ ﷺ کو اطلاع دی تو آپ ﷺ نے ہمیں ایک چادر دی اور فرمایا: ”اس کی مینڈھیاں بھی کرنا۔“ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے ان کے سر کی تین مینڈھیاں کیں، پھر ان کو، دو کو سامنے اور ایک کو پیچھے ڈال دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6632
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»
حدیث نمبر: 6633
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، وَحَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّهُ، بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي " فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ ". وَقَالَ أَيُّوبُ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ: " ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ سَبْعًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ " قَالَتْ: وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ حَمَّادٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ حَامِدِ بْنِ عُمَرَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک بیٹی فوت ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے تین یا پانچ مرتبہ غسل دینا یا اس سے زیادہ مرتبہ بھی اگر ضرورت محسوس ہو۔ پانی اور بیری سے غسل دینا اور آخر میں کافور لگانا یا کافور جیسی کوئی چیز اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتا دینا۔“ سو جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ ﷺ کو آگاہ کیا تو آپ ﷺ نے ہمیں ایک چادر دی۔ آپ ﷺ نے مزید فرمایا: ”اس کی مینڈھیاں بھی کرنا“ اور یہ بھی فرمایا: ”تین، پانچ یا سات مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ اگر ضرورت محسوس ہو۔“ وہ کہتی ہیں اور ہم نے اس کے سر کی چار مینڈھیاں کیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6633
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ المسلم»
حدیث نمبر: 6634
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُ الْغُسْلَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ: يَغْسِلُ بِالسِّدْرِ مَرَّتَيْنِ، وَالثَّالِثَةَ بِالْمَاءِ وَالْكَافُورِ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے غسل کا طریقہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے لیا، وہ غسل دیتیں بیری کے ساتھ دو مرتبہ اور تیسری مرتبہ پانی اور کافور کے ساتھ، اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بیان کیا گیا کہ ان کے باپ نے وصیت کی کہ اے میرے بیٹے! جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے ایک مرتبہ پانی سے غسل دینا، عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ کو ایک مرتبہ غسل دینا کافی ہے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس میں کوئی چیز مقرر نہیں اور ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب بیری وغیرہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں اور اصحابِ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میت کو ایک ایک مرتبہ غسل دیا جائے اور ایک ہی کفن اور ایک ہی مرتبہ استنجاء کروانا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6634
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابو داؤد»
حدیث نمبر: 6635
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ الْإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، أنبأ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ، قَالُوا " الْمَيِّتُ يُغَسَّلُ وِتْرًا، وَيُكَفَّنُ وِتْرًا، وَيُجْمَرُ وِتْرًا ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ اصحابِ عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میت کو طاق عدد میں غسل دیا جائے اور طاق ہی کفن دیا جائے اور طاق ہی مینڈھیاں کی جائیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6635
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه ابن ماجه»