کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جنازوں کے معاملات مثلاً غسل، کفن، نماز اور دفن میں عمل کرنے کے وجوب کا بیان یہاں تک کہ اتنے لوگ یہ کام انجام دے لیں جو کافی ہوں (فرضِ کفایہ کا بیان)
حدیث نمبر: 6616
قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں جنازوں کے پیچھے چلنے (یعنی ان میں شرکت کرنے) کا حکم دیا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6616
حدیث نمبر: 6616
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ: رَدُّ السَّلَامِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرماتے تھے: ”مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں: سلام کا جواب دینا، مریض کی عیادت کرنا، جنازوں کی اتباع کرنا، دعوت کو قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6616
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»
حدیث نمبر: 6617
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ، فَمَا رَأَيْتُهُ مَرَّ بِجِيفَةِ إِنْسَانٍ إِلَّا أَمَرَ بِدَفْنِهِ، لَا يَسْأَلُ أَمُسْلِمٌ هُوَ أَمْ كَافِرٌ؟ "..
حافظ ثناء اللہ
یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہما اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کئی مرتبہ سفر کیا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ کسی انسان کی میت کے پاس سے گزرے ہوں اور آپ ﷺ نے دفن کا حکم نہ دیا ہو۔ آپ ﷺ یہ بھی نہیں پوچھتے تھے کہ یہ مسلم ہے یا کافر۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6617
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً۔ أخرجه الحاكم»
حدیث نمبر: 6618
وَقَالَ غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، بِإِسْنَادِهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ، يَقُولُ، فَذَكَرَهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ ⦗٥٤٣⦘ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
عمر بن عبداللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ ایسی ہی حدیث بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6618
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً۔ دار قطني»
حدیث نمبر: 6619
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ زَكَرِيَّا، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ، ثنا ابْنُ يُونُسَ، ثنا لَيْثٌ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: " وَجَدَ النَّاسُ وَهُمْ صَادِرُونَ يَعْنِي مِنَ الْحَجِّ امْرَأَةً مَيْتَةً بِالْبَيْدَاءِ، يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَلَا يَرْفَعُونَ لَهَا رَأْسًا، حَتَّى مَرَّ بِهَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ كُلَيْبٌ مِسْكِينٌ فَأَلْقَى عَلَيْهَا ثَوْبَهُ ثُمَّ اسْتَعَانَ عَلَيْهَا مَنْ يَدْفِنُهَا، فَدَعَا عُمَرُ عَبْدَ اللهِ يَعْنِي ابْنَهُ، فَقَالَ: " هَلْ مَرَرْتَ بِهَذِهِ الْمَرْأَةِ الْمَيْتَةِ؟ فَقَالَ: لَا، فَقَالَ عُمَرُ: لَوْ حَدَّثْتَنِي أَنَّكُ مَرَرْتَ بِهَا لَ‍نَكَّلْتُ بِكَ، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِمْ فِيهَا، وَقَالَ: لَعَلَّ اللهَ يُدْخِلُ كُلَيْبًا الْجَنَّةَ بِفِعْلِهِ بِهَا، فَبَيْنَمَا كُلَيْبٌ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ الْمَسْجِدِ جَاءَهُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ قَاتِلُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَقَرَ بَطْنَهُ، قَالَ نَافِعٌ: وَقَتَلَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ مَعَ عُمَرَ سَبْعَةَ نَفَرٍ ". وَرَوَاهُ أَيْضًا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ حج سے آ رہے تھے تو انہوں نے بیداء مقام پر ایک مردہ عورت کو پایا۔ وہ گزرتے گئے اور کسی نے اس کی طرف سر اٹھا کر نہ دیکھا حتیٰ کہ ہوالیت میں سے ایک آدمی گزرا جسے کلیب مسکین کہا جاتا تھا۔ اس نے اس پر کپڑا ڈال دیا۔ پھر انہوں نے مدد کے لیے پکارا جو اسے دفن کریں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کو بلایا (یعنی اپنے بیٹے کو) تو انہوں نے کہا: ”کیا تو اس مردہ عورت کے پاس سے گزرا ہے؟“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: ”نہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر مجھے علم ہو گیا کہ تو وہاں سے گزرا ہے تو میں تجھے ضرور سزا دوں گا۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور ان پر بہت ناراض ہوئے اور کہنے لگے: ”شاید کہ اللہ تعالیٰ اسی عمل کی وجہ سے کلیب کو جنت میں داخل کر دے۔“ ایک مرتبہ کلیب مسجد کے پاس وضو کر رہے تھے کہ ان کے پاس ابولؤلؤ آیا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قاتل تھا تو اس نے اس کا پیٹ پھاڑ دیا۔ نافع کہتے ہیں: ابولؤلؤ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سترہ افراد کو قتل کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6619
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابن حبان»