کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: میت کے پیٹ پر کوئی چیز رکھنے، پھر اسے چارپائی یا کسی اور چیز پر رکھنے کے مستحب ہونے کا بیان تاکہ وہ جلدی پھول نہ جائے
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا أَبُو الْمُنِيبِ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ آدَمَ قَالَ: مَاتَ مَوْلًى لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عِنْدَ مَغِيبِ الشَّمْسِ، فَقَالَ أَنَسٌ: " ضَعُوا عَلَى بَطْنِهِ حَدِيدَةً ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن آدم کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا غلام شام کے وقت فوت ہوا تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے پیٹ پر لوہے کی کوئی چیز رکھو۔
امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان سے ایک مرتبہ میت کے پیٹ پر تلوار رکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: وہ اس ڈر سے رکھی جاتی ہے کہ وہ پھول نہ جائے۔
امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان سے ایک مرتبہ میت کے پیٹ پر تلوار رکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: وہ اس ڈر سے رکھی جاتی ہے کہ وہ پھول نہ جائے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ آدَمَ، ثنا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " لَمَّا فُرِغَ مِنْ جِهَازِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ فِي بَيْتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب منگل کے دن آپ ﷺ کی تجہیز سے فراغت ہوئی تو آپ ﷺ کو آپ کے گھر میں چارپائی پر رکھا گیا۔