کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ہوا چلنے کے وقت آپ ﷺ جو دعا پڑھتے تھے اور اسے برا بھلا کہنے سے منع فرمانے کا بیان
حدیث نمبر: 6463
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يحَدِّثُنَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَصَفَتِ الرِّيحُ قَالَ: " اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ ". قَالَتْ: فَإِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَاءُ تَغَيَّرَ لَوْنُهُ، وَخَرَجَ وَدَخَلَ، وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ، فَعَرَفَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ مِنْهُ فَسَأَلَتْهُ، فَقَالَ: " لَعَلَّهُ يَا عَائِشَةُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ {فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا} [الأحقاف: ٢٤] " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي طَاهِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
نبی کریم ﷺ کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آندھی چلتی تو آپ ﷺ کہتے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے اس کی خیر و برکت، جو اس میں خیر و برکت ہے وہ مانگتا ہوں اور وہ بھلائی مانگتا ہوں جس کے ساتھ وہ بھیجی گئی ہے، اور تجھ سے اس کے شر، جو اس میں ہے اور جس شر کے ساتھ وہ بھیجی گئی ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں“ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب آسمان ابرآلود ہو جاتا تو آپ ﷺ کا رنگ تبدیل ہو جاتا، کبھی آپ ﷺ باہر نکلتے، کبھی اندر داخل ہوتے، کبھی آتے اور کبھی جاتے۔ جب بارش برستی تو آپ ﷺ اس سے خوش ہو جاتے اور اس بات کو جب انہوں نے جان لیا تو آپ ﷺ سے پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! شاید ایسا ہو جیسے قومِ عاد کے ساتھ ہوا، ﴿فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا﴾ [سورة الأحقاف: 24] ”جب انہوں نے اس بادل کو اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے دیکھا تو کہنے لگے: یہ بادل ہمیں بارش دے گا“۔“
حدیث نمبر: 6464
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، وَابْنُ كَثِيرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَحَدِ بَنِي زُرَيْقٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الزُّرَقِيُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: " أَخَذْتِ النَّاسَ رِيحٌ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَاجٌّ فَاشْتَدَّتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِمَنْ حَوْلَهُ: " مَا الرِّيحُ؟ " فَلَمْ يُرْجِعُوا إِلَيْهِ شَيْئًا، فَبَلَغَنِي الَّذِي سَأَلَ عَنْهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ ذَلِكَ، فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِي إِلَيْهِ حَتَّى أَدْرَكْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أُخْبِرْتُ أَنَّكَ سَأَلْتَ عَنِ الرِّيحِ؟ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ، وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ، فَلَا تَسُبُّوهَا، وَاسْأَلُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرَهَا، وَاسْتَعِيذُوا بِاللهِ مِنْ شَرِّهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں کو آندھی نے آلیا اور وہ مکہ کے راستے میں تھے اور عمر رضی اللہ عنہ حج کے لیے جا رہے تھے اور آندھی بہت سخت ہوگئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ارد گرد کے لوگوں سے پوچھا: ”کیسی ہوا ہے؟“ تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا اور مجھے یہ خبر پہنچی کہ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سوال کیا ہے تو میں اپنی سواری ان کے قریب لایا اور میں نے ان کو پالیا تو میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے «الرِّيحِ» کے بارے میں دریافت کیا ہے اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: «الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللهِ، تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ، وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَلَا تَسُبُّوهَا، وَاسْأَلُوا اللهَ خَيْرَهَا، وَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا» ”ہوا اللہ تعالیٰ کی (طرف سے) ہے جو رحمت بھی لاتی ہے اور عذاب بھی لاتی ہے، سو تم اسے برا بھلا نہ کہو۔ اللہ تعالیٰ سے اس کی بھلائی مانگو اور اس کے شر سے پناہ طلب کرو۔“