حدیث نمبر: 6450
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ قَالُوا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ⦗٤٩٩⦘ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةَ فِي إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ؛ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ "؟ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: " أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي، وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي، كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا؛ فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي، مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ مَالِكٍ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، وَرَوَاهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِمَعْنَاهُ وَكَأَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں پیارے پیغمبر ﷺ نے حدیبیہ میں صبح کی نماز پڑھائی، بادلوں کے نشانات (کیچڑ میں) جو رات سے تھے، جب آپ ﷺ پھرے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟“ تو انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بندوں میں سے کچھ نے ایمان کی حالت میں صبح کی ہے اور کچھ نے کفر کی حالت میں۔ سو جس نے کہا کہ ہم اللہ کے فضل اور رحمت سے بارش دیے گئے ہیں وہ مجھ پر ایمان لایا اور ستاروں کا انکار کرنے والا ہے اور جنہوں نے کہا کہ ہم فلاں فلاں وجہ سے بارش دیے گئے ہیں وہ میرا انکار اور ستاروں پر ایمان رکھنے والے ہیں۔“
حدیث نمبر: 6451
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " " أَلَمْ تَرَوْا إِلَى مَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالَ: مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: الْكَوْكَبُ وَبِالْكَوْكَبِ " " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَوَّادٍ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ أَبُو يُونُسَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِمَعْنَاهُ، وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم دیکھتے نہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جب بھی میں اپنے بندوں پر کوئی انعام کرتا ہوں تو ان میں سے کچھ لوگ اس نعمت کے انکاری ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں: فلاں ستارے کا کرشمہ ہے، فلاں ستارے کی وجہ سے ہے۔“
حدیث نمبر: 6452
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصْبَحَ مِنَ النَّاسِ شَاكِرٌ، وَمِنْهُمْ كَافِرٌ، قَالُوا: هَذِهِ رَحْمَةٌ وَضَعَهَا اللهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَقَدْ صَدَقَ نَوْءُ كَذَا وَكَذَا فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ} [الواقعة: ٧٥] حَتَّى بَلَغَ {وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ} [الواقعة: ٨٢] ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْعَظِيمِ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں لوگوں کو بارش دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آج کچھ لوگوں نے شکر کرتے ہوئے اور کچھ لوگوں نے کفر کرتے ہوئے صبح کی ہے۔“ شاکر لوگوں نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے یہ اپنی رحمت نازل کی ہے۔“ انکاریوں نے کہا: ”فلاں ستارے کا فلاں جگہ پہنچنا درست ہوا اور فلاں وجہ سے بارش ہوئی“ اور یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی: ﴿فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ﴾ [سورة الواقعة: 75] سے لے کر آیت نمبر 82 ﴿وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ﴾ [سورة الواقعة: 82] ”اور تم نے اس کا شکریہ اس طرح ادا کیا ہے کہ اس کی نعمتوں کو جھٹلا دیا“ تلاوت کی۔
حدیث نمبر: 6453
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ: أَرَى مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ⦗٥٠٠⦘ وَاللهُ أَعْلَمُ، أَنَّ مَنْ قَالَ: " مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِهِ " فَذَلِكَ إِيمَانٌ بِاللهِ؛ لِأَنَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُمْطِرُ وَلَا يُعْطِي إِلَّا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا عَلَى مَا كَانَ بَعْضُ أَهْلِ الشِّرْكِ يَعْنُونَ مِنْ إِضَافَةِ الْمَطَرِ إِلَى أَنَّهُ أَمْطَرَهُ نَوْءُ كَذَا، فَذَلِكَ كُفْرٌ " كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّ النَّوْءَ وَقْتٌ، وَالْوَقْتُ مَخْلُوقٌ، لَا يَمْلِكُ لِنَفْسِهِ وَلَا لِغَيْرِهِ شَيْئًا، وَلَا يُمْطِرُ، وَلَا يَصْنَعُ شَيْئًا؛ فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا عَلَى مَعْنَى مُطِرْنَا فِي وَقْتِ نَوْءِ كَذَا، فَإِنَّمَا ذَلِكَ كَقَوْلِهِ: مُطِرْنَا فِي شَهْرِ كَذَا، فَلَا يَكُونُ هَذَا كُفْرٌ، وَغَيْرُهُ مِنَ الْكَلَامِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، أُحِبُّ أَنْ يَقُولَ: مُطِرْنَا فِي وَقْتِ كَذَا. قَالَ: " وَبَلَغَنِي أَنَّ بَعْضَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَصْبَحَ وَقَدْ مُطِرَ النَّاسُ قَالَ: " مُطِرْنَا بِنَوْءِ الْفَتْحِ "، ثُمَّ يَقْرَأُ {مَا يفْتَحُ اللهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا} [فاطر: ٢] ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے متعلق امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرا خیال آپ ﷺ کے فرمان کے بارے میں یہ ہے کہ جس نے کہا کہ ”ہم اللہ کی رحمت اور اس کے فضل سے بارش دیے گئے ہیں“، یہ اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے کہ اس کے سوا نہ کوئی بارش دے سکتا ہے نہ ہی کچھ اور۔ جس نے یہ کہا کہ ہم فلاں قسم (ستارے) کی وجہ سے بارش دیے گئے ہیں، جو اہل شرک کا نظریہ تھا کہ فلاں ستارے نے بارش برسائی ہے اور فلاں وجہ سے بارش آئی ہے، یہ کفر ہے جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ «النَّوءُ» ”وقت“ ہے اور وقت مخلوق ہے جو نہ اپنے لیے کچھ اختیار رکھتا ہے اور نہ دوسرے کے لیے، نہ وہ بارش برسا سکتا ہے اور نہ کچھ اور کرسکتا ہے اور جس نے کہا کہ ہم فلاں وجہ سے بارش دیے گئے ہیں یعنی فلاں وقت کی وجہ سے بارش دیے گئے ہیں، بیشک یہ بھی ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ہم فلاں ماہ میں بارش دیے گئے ہیں۔ یہ کہنا اور اس جیسی دوسری بات کہنا کفر نہیں ہوتا اور یہ بات مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے اور مجھے پسند ہے کہ یہ بات ایسے کہی جاتی کہ ”ہم فلاں وقت میں بارش دیے گئے ہیں“۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم جب وہ بارش دیے گئے اور انہوں نے صبح کی تو کہنے لگے کہ ہم فلاں کامیابی کسی قسم سے بارش دیے گئے ہیں۔ پھر آپ اس آیت کو پڑھتے ﴿مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا﴾ [سورة فاطر: 2]۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے جمعہ کے دن منبر پر فرمایا کہ «الثُّرَيَّا» (ثریا) کی قسم کتنی باقی ہے؟ تو عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ «العَوَاءُ» (عواء) کے بغیر کچھ باقی نہیں ہے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے دعا کی اور دیگر لوگوں نے بھی دعا کی، یہاں تک کہ وہ منبر سے اترے تو بارش برسنا شروع ہوگئی اور اس سے لوگ زندگی دیے گئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ کا قول اسے واضح کرتا ہے جو میں نے بیان کیا؛ کیونکہ ان کی مراد یہ تھی کہ ثریا کا کتنا وقت باقی ہے۔ یہ بات اس علم کی بنا پر کہی جو وہ جانتے تھے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے ان اوقات میں بارش کو مقدر کیا ہے جس طرح تجربے سے یہ بات جانی گئی ہے کہ فلاں وقت کو اللہ تعالیٰ نے سردی اور گرمی کے لیے مقدر کیا ہے؛ اور وہ کہتے ہیں: مجھے یہ بات بھی پہنچی ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بنو تمیم کے ایک بوڑھے پر ناراض ہوگئے جب وہ عکاظ کے بازار میں ٹیک لگائے بیٹھا تھا اور لوگ بارش دیے گئے تھے۔ اس نے کہا: ”آج صبح پچھتر (ستاروں) نے سیراب کردیا ہے“، مگر عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی بات کا انکار کردیا، پچھتر کو بارش کی طرف منسوب کیے جانے کی وجہ سے یہ بات کہی۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم جب وہ بارش دیے گئے اور انہوں نے صبح کی تو کہنے لگے کہ ہم فلاں کامیابی کسی قسم سے بارش دیے گئے ہیں۔ پھر آپ اس آیت کو پڑھتے ﴿مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا﴾ [سورة فاطر: 2]۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے جمعہ کے دن منبر پر فرمایا کہ «الثُّرَيَّا» (ثریا) کی قسم کتنی باقی ہے؟ تو عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ «العَوَاءُ» (عواء) کے بغیر کچھ باقی نہیں ہے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے دعا کی اور دیگر لوگوں نے بھی دعا کی، یہاں تک کہ وہ منبر سے اترے تو بارش برسنا شروع ہوگئی اور اس سے لوگ زندگی دیے گئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ کا قول اسے واضح کرتا ہے جو میں نے بیان کیا؛ کیونکہ ان کی مراد یہ تھی کہ ثریا کا کتنا وقت باقی ہے۔ یہ بات اس علم کی بنا پر کہی جو وہ جانتے تھے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے ان اوقات میں بارش کو مقدر کیا ہے جس طرح تجربے سے یہ بات جانی گئی ہے کہ فلاں وقت کو اللہ تعالیٰ نے سردی اور گرمی کے لیے مقدر کیا ہے؛ اور وہ کہتے ہیں: مجھے یہ بات بھی پہنچی ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بنو تمیم کے ایک بوڑھے پر ناراض ہوگئے جب وہ عکاظ کے بازار میں ٹیک لگائے بیٹھا تھا اور لوگ بارش دیے گئے تھے۔ اس نے کہا: ”آج صبح پچھتر (ستاروں) نے سیراب کردیا ہے“، مگر عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی بات کا انکار کردیا، پچھتر کو بارش کی طرف منسوب کیے جانے کی وجہ سے یہ بات کہی۔
حدیث نمبر: 6454
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ فَذَكَرَهُ. وَالَّذِي رَوَاهُ أَوَّلًا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَهُوَ.
حافظ ثناء اللہ
مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہی بات کہتے ہیں۔ سو انہوں نے اس بات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ مجھے قسم ہے، جو بات انہوں نے پہلے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بیان کی وہی ہے۔
حدیث نمبر: 6455
فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ مَوْلَى جُهَيْنَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُبَيِّتُ الْقَوْمَ بِالنِّعْمَةِ، ثُمَّ يصْبِحُونَ وَأَكْثَرُهُمْ بِهَا كَافِرٌ يَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا ". ⦗٥٠١⦘ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنْ سَلْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ سَعِيدٌ: نَحْنُ قَدْ سَمِعْنَا ذَاكَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: ”قوم کو کوئی نعمت رات کے وقت ملتی ہے، پھر وہ صبح اس حال میں کرتے ہیں کہ اکثر ان میں سے اس کا انکار کرنے والے ہوتے ہیں اور وہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں قسم کی وجہ سے بارش دیے گئے ہیں۔“
سعید کہتے ہیں کہ ہم نے یہ بات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنی اور انہوں نے مجھ سے ایسی حدیث بیان کی جس (کے راوی) پر میں تہمت نہیں لگا سکتا۔ بیشک وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی صلاۃ الاستسقاء میں شامل ہوئے اور وہ قحط سالی میں لوگوں کے لیے بارش مانگ رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور لوگوں نے بارش کے لیے دیر تک دعا و التجا کی اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے عباس! ”ثریا“ کی فلاں قسم کتنی باقی ہے؟ انہوں نے کہا: اے امیر المومنین! اہل علم خیال کرتے ہیں، سات دن کے بعد وہ افق کے کناروں سے ہٹ جائے گا۔ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ابھی وہ سات دن ہی گزرنے پائے تھے کہ لوگوں کو بارش دے دی گئی۔
سعید کہتے ہیں کہ ہم نے یہ بات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنی اور انہوں نے مجھ سے ایسی حدیث بیان کی جس (کے راوی) پر میں تہمت نہیں لگا سکتا۔ بیشک وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی صلاۃ الاستسقاء میں شامل ہوئے اور وہ قحط سالی میں لوگوں کے لیے بارش مانگ رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور لوگوں نے بارش کے لیے دیر تک دعا و التجا کی اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے عباس! ”ثریا“ کی فلاں قسم کتنی باقی ہے؟ انہوں نے کہا: اے امیر المومنین! اہل علم خیال کرتے ہیں، سات دن کے بعد وہ افق کے کناروں سے ہٹ جائے گا۔ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ابھی وہ سات دن ہی گزرنے پائے تھے کہ لوگوں کو بارش دے دی گئی۔