کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس دلیل کا بیان جس سے گرہن اور عید کے جمع ہونے کا جواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ مہینے کی دسویں تاریخ کو گرہن کا واقع ہونا جائز ہے
حدیث نمبر: 6349
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْأَصَمُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ فَهْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَاقِدِيُّ: " أَنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ لِعَشْرِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ سَنَةَ عَشْرٍ وَدُفِنَ بِالْبَقِيعِ وَكَانَتْ وَفَاتُهُ فِي بَنِي مَازِنٍ عِنْدَ أُمِّ بَرْزَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرًا ".
حافظ ثناء اللہ
واقدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم رضی اللہ عنہ منگل کے دن دس ربیع الاول دس ہجری کو فوت ہوئے اور بقیع میں دفن کیے گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی وفات بنو مازن قبیلہ کی عورت ام برزہ بنت منذر رضی اللہ عنہا کے ہاں ہوئی جو بنو نجار سے تعلق رکھتی تھیں، وفات کے وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر ۱۸ ماہ تھی۔
حدیث نمبر: 6350
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ وَوَكِيعٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَمِّعٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّهِ سِيرِينَ قَالَتْ: " حَضَرْتُ مَوْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ النَّاسُ هَذَا لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّمْسَ لَا تَنْكَسِفُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ "، وَمَاتَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ لِعَشْرٍ خَلَوْنَ مِنْ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ سَنَةَ عَشْرٍ ". وَكَذَلِكَ ذَكَرَهُ الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، فَإِنْ كَانَ مَحْفُوظًا فَوَفَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ بِسَنَةٍ سَنَةَ إِحْدَى عَشْرَةَ، وَقَدْ رُوِّينَا فِي أَخْبَارٍ صَحِيحَةٍ أَنَّ الشَّمْسَ خَسَفَتْ يَوْمَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن حسان اپنی والدہ سیرین رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی موت کے وقت موجود تھیں۔ اس دن سورج گرہن ہو گیا۔ لوگوں نے کہا: یہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے“ اور یہ واقعہ منگل کے دن ربیع الاول کی دس تاریخ کو ١٠ نبوی کو پیش آیا۔
حدیث نمبر: 6351
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: " قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ لِعَشْرٍ مَضَيْنَ مِنَ الْمُحَرَّمِ سَنَةَ إِحْدَى وَسِتِّينَ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً وَسِتَّةِ أَشْهُرٍ وَنِصْفٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو عروبہ، حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما جمعہ کے دن، دس محرم ۱۰ ہجری، ۵۴ سال یعنی ساڑھے چھ ماہ کی عمر میں شہید کیے گئے۔
حدیث نمبر: 6352
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، أنبأ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ قَالَ: " لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَسَفَتِ الشَّمْسُ كَسْفَةً بَدَتِ الْكَوَاكِبُ نِصْفَ النَّهَارِ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا هِيَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو قبیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے تو سورج گرہن ہوا، ستارے دوپہر کے وقت چمک رہے تھے اور ہم نے گمان کر لیا کہ یہ قیامت کا دن ہے۔